ترتیب بر اساس: جدیدترینپربازدیدترین
فیلترهای جستجو: فیلتری انتخاب نشده است.
نمایش ۲۶٬۵۲۱ تا ۲۶٬۵۴۰ مورد از کل ۸۲٬۸۷۶ مورد.
۲۶۵۲۱.

دانشگاه مجازی المصطفی (صلی الله علیه وآله) متولی آموزش زبان فارسی با رویکرد گسترش فرهنگ اسلامی- ایرانی(مقاله علمی وزارت علوم)

حوزه‌های تخصصی:
تعداد بازدید : ۸۹۷ تعداد دانلود : ۸۳۷
چنان چه به آموزش و گسترش زبان فارسی با اهداف انتقال فرهنگ و معارف اسلامی ایرانی، صدور گفتمان انقلاب اسلامی و معرفی تمدن نوین اسلامی توجه شود؛ به نظر می رسد مناسب ترین متولی برای آموزش زبان فارسی با این اهداف جامعه المصطفی العالمیه خواهد بود که علاوه بر سابقه آموزش حضوری چند ده ساله و نیز سابقه مجازی چند ساله در آموزش زبان فارسی، متولی نشر معارف و گفتمان انقلاب اسلامی در حوزه بین الملل نیز می باشد. در این میان، استفاده از فضای مجازی و ارتباط و آموزش از طریق اینترنت و شبکه های اجتماعی فرصتی بی نظیر در اختیار دانشگاه مجازی المصطفی قرار داده که با سهولت هر چه بیشتر به مخاطبانی از سراسر دنیا دسترسی پیدا کرده و هدف بیان شده را محقق نماید. آن چه به نظر می رسد در این میان ضرورت دارد تبیین صحیح نقش، جایگاه و افق پیش روی دانشگاه مجازی در این حوزه است که خود را در کسوت متولی گسترش زبان فارسی با هدف آموزش معارف اسلامی و صدور گفتمان انقلاب اسلامی در فضای مجازی و بین الملل بشناسد، بشناساند و از ظرفیت های موجود در این فضا به شکل بهینه بهره ببرد. بر همین اساس، در این پژوهش پس از معرفی گروه زبان فارسی دانشگاه مجازی با مراجعه به استادان زبان فارسی و معارف اسلامی این گروه و مصاحبه با آنان، نظرات ایشان در این زمینه گردآوری و ارائه شده است. از جمله نکات مورد توجه استادان، مزایای فضای مجازی، ضرورت انتقال فرهنگ و معارف به زبان فارسی و زمینه سازی برای معرفی تمدن نوین اسلامی است.
۲۶۵۲۲.

سائبر اسپیس میں موجودہ تعلیمی مواقع(مقاله علمی وزارت علوم)

حوزه‌های تخصصی:
تعداد بازدید : ۶۶۳ تعداد دانلود : ۴۲۴
سائبر اسپیس معلومات کا وہ ذخیرہ ہے جس میں ہر طرح کی کتب ، مقالہ جات اور تحقیقات نہ صرف محفوظ کی گئی ہیں بلکہ ہر گزرتے دن ان معلومات میں اضافہ کیا جا رہا ہے ۔ تعلیمی، سماجی اور اقتصادی خوشحالی میں سائبر اسپیس اپنا کردار ادا کرنے میں ایک حقیقت بن چکی ہے ۔ سائبر اسپیس نے ہر شعبہ زندگی میں بنی نوع انسان کے لیے ترقی اور علم کی نئی جہتیں روشناس کروائی ہیں ۔ ہر دور میں علم کا حصول انسان کا ایک اہم ترین مقصد رہا ہے ۔ علم کی پیا س بجھانے کے لیے طلباء دور دراز کا سفر کرتے چلے آئے ہیں ۔علم کی پیاس بجھانے میں وقت اور حالات ہمیشہ آڑے آتے رہے تاہم اس تشنگی کو بجھانے کے لیے سائبر اسپیس ایک اہم کردار ادا کر سکتی ہے ۔ مذاہب کے مابین مکالمہ ہو یا مختلف مذاہب کا تقابلی جائزہ ، سائبر اسپیس کی مدد سے تبصرہ یا تجزیہ کرنا بے حد آسان بن چکا ہے ۔ اب طالب علم کے لیے عالمی سطح کے علم کا حصول ناممکن نہیں رہا ۔ دین اور دینی معلومات کے فروغ کے لیے سائبر اسپیس اپنی ایک منفرد حیثیت رکھتی ہے ۔ وہ وقت اب ماضی کا حصہ بن چکا ہے جب ہاتھ سے خطوط لکھ کر اپنا مدعا بیان کیا جاتا تھا ۔ کسی بھی مضمون کی معلومات کے لائبریریوں کو چھان مارا جاتا تھا ۔سائبر اسپیس نے ہر طرح کی معلومات کو بس ایک کلک کی دوری پر رکھ چھوڑا ہے ۔ ادہر مطلوبہ معلومات کے مضمون کو سرچ انجن پر لکھیے ادہر دنیا جہان کے علم کا خزانہ آپ کے کمپیوٹر کی اسکرین پر حاظر ہو جائے گا ۔ اس تمام معلومات میں سے اپنی مطلوبہ معلومات کو چن کر اپنی تحقیق کو جدید ترین بنایا جا سکتا ہے ۔ سائبرا سپیس کا دینی اور دنیاوی علم کے حصول کے لیے نہ صرف اہم کردار ہے بلکہ سماجی ، تعلیمی ، علاقائی ، اقتصادی، تہذیبی ، نفسیاتی ترقی میں بھی سائبر اسپیس کے کردار سے انکار ممکن نہیں۔سائبر اسپیس نے طالب علموں، تحقیق کاروں اور اساتذہ کے لیے بے شمار معلومات کا ذخیرہ پیدا کر دیا ہے ۔یہ معلومات جہانِ عالم کی ایک شاخ سے تعلق رکھتی ہیں چاہے وہ آرٹ یو ، فنون لطیفہ ہوں ، آرکیٹیکچر ہو ، سیاست ہو، مذہب ہو یا ادب ۔ گویاسائبر اسپیس کی وجہ سے ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والوں کے لیے مطلوبہ معلومات بیش بہا تعداد میں موجود ہے ۔ دنیا کے ایسے دور دراز علاقے جہاں طلباء کے لیے غربت کے باعث سفر کرنا ممکن نہیں ان کے سائبر اسپیس کسی نعمت سے کم نہیں کیونکہ یہ سائبر اسپیس ہی ہے جو ایسے علاقوں میں معلومات باہم پہنچانے کا واحد او ر مؤثر ذریعہ ہے ۔ صرف یہی نہیں ۔یہ سائبر اسپیس کا ہی کمال ہے کہ علم کا وہ ذخیرہ جس کو محفوظ کرنے کے لیے کئی کئی ایکڑ پر محیط لائبریریوں کی ضرورت تھی آج اس کے لیے نہ تو بڑی جگہ کی ضرورت ہے اور نہ ہی ان گنت کتب کی ۔ یہاں تک کہ مطلوبہ مضمون کے مطابق معلومات کی باہم اور جلد فراہمی چند سیکنڈ میں ممکن بنا دی گئی ہے ۔ آج سائبر اسپیس کی وجہ سے انسان نے نہ صرف روئے زمین پر بلکہ سمندر اور خلاؤں کی تسخیر ممکن بنا لی ہے۔ ائیرو سپیس ٹیکنالوجی کی بدولت آج کا انسان دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک باآسانی پہنچ جاتا ہے۔ انسان نے وقت کے دھارے کے ساتھ ساتھ چلنے کی وجہ سے کم از کم وقت میں زیادہ سے زیادہ مقاصد کے حصول کو ممکن بنا دیا ہے ۔ کمیونیکشن کے میدان میں انسان نے فضا ء میں موجود لہروں پہ بھی کمال کی قدرت حاصل کی ہے ۔ دنیا کے کسی بھی کونے میں کوئی واقعہ رونما ہو جائے تو کمیونیکیشن سسٹم کے ذریعہ دنیا کے کسی بھی ملک میں چند لمحوں میں اس خبر کو پہنچا دیا جاتا ہے ۔ سائبر اسپیس کی بدولت دنیا سمٹ چکی ہے اور ہر طرح کی خبروں کی ترسیل منٹوں تو دور کی بات سیکنڈ میں کر دی جاتی ہے ۔ ہر ملک کے باشندے دوسرے ملک کے بارے میں معلومات رکھتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف تہذیبیں آپس میں مدغم ہوتی چلی جا رہی ہیں ۔ سائبر اسپیس نے انسان کی ترقی کی راہیں کھول دی ہیں ۔ سائبر اسپیس کی بدولت انسان نے نہ صرف اپنی علمی کمی کو پورا کیا ، انسانیت کا درس حاصل کیا بلکہ اقوامِ عالم کی تہذیبی اور اقتصادی ترقی بھی حاصل کی ۔ الغرض ہر شعبہ زندگی میں سائبر اسپیس اپنا ایک اہم کردار ادا کر رہی ہے ۔
۲۶۵۲۳.

Future Studies of Religious Education based on Virtual Learning(مقاله علمی وزارت علوم)

نویسنده:
حوزه‌های تخصصی:
تعداد بازدید : ۵۵۲ تعداد دانلود : ۳۷۶
A detailed analysis of current trends in virtual learning that can be applied for future studies of religious education and sharing results of introducing a new concept of virtual E-learning in Shia Islamic Education. A detailed study and analysis of latest trends in virtual Learning being applied in different educational sectors that is yielding great benefits for educating young generation. Also share the outcome of applying these new virtual learning trends and techniques used in introducing a new concept of E-learning in Shia Islamic Education Platform by the name of ‘KAZ Online School’. The results will be based on quantitative statistical analysis based on behaviours and adaptive trends of more than 200 subscribers/learner’s of KAZ Online School. Virtual learning can help us to propagate the Islamic education across the globe to even remote areas and unlock new arenas for both preaching the true Islamic concepts within Islamic community and inter-faith dialogue. For this we need to understand the reaping benefits of latest developments and technologies being used in virtual learning space by different educational sectors. And then apply this to our current Islamic Education methodologies. This detail study and analysis will help to understand the future trends that are required to be adapted to attract and inspire future generations towards great treasure of Islamic education and values through virtual learning.
۲۶۵۲۴.

واکاوی پدیده افسردگی در شعر عبدالله بردونی بر مبنای آزمون (MMPI-۲)(مقاله علمی وزارت علوم)

حوزه‌های تخصصی:
تعداد بازدید : ۶۳۶ تعداد دانلود : ۵۰۶
عبدالله بردونی شاعر معاصر و نابینای یمنی، در سال ۱۹۲۹ م. در روستای بردون از توابع صنعا در خانواده ای تهیدست به دنیا آمد. وی در چهار سالگی بر اثر بیماری آبله بینایی خود را از دست داد و تمام عمر خویش را نابینا زیست. او در طول حیات ادبی خود آثار منظوم و منثور بسیاری از خود بر جای گذاشته است. در مطالعه دیوان شاعر در می یابیم، پیوسته هاله ای از حزن و اندوه بر شعر وی سایه افکنده است؛ به نظر می رسد این پدیده متأثر از کمبودها و محدودیت های شاعر در زندگی باشد. در پژوهش حاضر نگارندگان سعی نموده اند بر مبنای آزمون آسیب شناسی روانی و ارزیابی شخصیت (MMPI-۲)، شخصیت عبدالله بردونی را از خلال شعر وی مورد بررسی قرار دهند و با روش توصیفی – تحلیلی، افسردگی و دلایل بروز آن را در شخصیت شاعر واکاوی نمایند. نتایج به دست آمده از این تحقیق نشان می دهد: بر مبنای آزمون (MMPI-۲) غالب نشانه های افسردگی در شاعر بروز نموده است. عوامل متعددی همچون: نابینایی، مرگ عزیزان، فقر و تهیدستی و غیره در تکوین شخصیت شاعر و آفرینش ادبی وی تأثیرگذار بوده اند. امید است این پژوهش میان رشته ای بتواند سهمی هرچند ناچیز در گسترش دایره این پژوهش ها داشته باشد.
۲۶۵۲۵.

جریان شناسی و آسیب شناسی تفسیر تطبیقی در سده های چهارم تا ششم هجری(مقاله علمی وزارت علوم)

حوزه‌های تخصصی:
تعداد بازدید : ۱۲۹۷ تعداد دانلود : ۷۷۰
مطالعات تطبیقی از اتفاقات خجسته ای است که در دوره معاصر، علوم انسانی را در نقطه عزیمت برای پیشرفت چشمگیر قرار داده است. دانش های دینی و از جمله، تفسیر قرآن نیز می تواند یکی از جلوه های این گونه مطالعات باشد. اندیشه خاص مذهبی مفسران سبب تولید فرآورده های تفسیری متفاوت شده، به طوری که تأثیر دو مکتب تشیع و تسنّن بر تفسیر برخی آیات، به ویژه آیات کلامی و فقهی، انکارناپذیر است. کاربست رویکرد تطبیقی در تفسیر این دسته از آیات، ضمن آنکه به شفافیت آرای تفسیری فریقین می انجامد، باعث رشد و بالندگی دانش تفسیر و گزینش آرای قوی تر از سوی مفسران نیز خواهد شد. پژوهش حاضر درصدد است تا پیدایش رویکرد تطبیقی در تفسیر و نیز سیر تحول آن را با مطالعه اهمّ تفاسیر اجتهادی فریقین در سده های چهارم، پنجم و ششم به انجام رساند. در این مقاله، برخی از آیاتی که بیش از دیگر آیات، معرکه آرای فقهی یا کلامی شیعه و اهل سنت بوده اند، انتخاب کرده ایم و دیدگاه مفسران یک مذهب در برخورد با آرای تفسیری مذهب دیگر ارزیابی نموده ایم. نگارندگان این مقاله درصدد هستند بدین پرسش پاسخ دهند که رویکرد تطبیقی در تفاسیر مورد بررسی چه ویژگی هایی دارد و هر یک از مفسران به آرای مخالف مذهب خود چگونه نگریسته است و با چه معیارهایی به طرح و نقد این آرا پرداخته است. نتایج این تحقیق نشان می دهد که همزمان با رشد و توسعه دو دانش کلام و فقه در سده های میانی، رویکرد تطبیقیِ شیعی سنّی به تفاسیر اجتهادی راه یافته است و در هر دو مکتب، سیری تکاملی داشته است و مفسران بعدی نقاط ضعف مفسران قبلی را جبران کرده اند. نمونه هایی که در این تحقیق بررسی شده اند، حاوی نکاتی است که نقاط قوّت و ضعف در تفسیر تطبیقی را نشان می دهد که این امر می تواند چراغ راهی برای مفسران و نیز نقطه عزیمت خوبی برای دانش تفسیر به شمار آید.
۲۶۵۲۶.

مهارت های ارتباطی در قرآن(مقاله علمی وزارت علوم)

حوزه‌های تخصصی:
تعداد بازدید : ۱۴۹۱ تعداد دانلود : ۷۸۸
انسان موجودی اجتماعی است که ارتباط و انس با دیگران از ضروریات زندگی او به شمار می رود. قرآن کریم برای برقراری ارتباط با دیگران و نحوه معاشرت با آنها مهارت های ویژه ای ارائه کرده است که یکی از مهم ترین آن ها، مهارت های ارتباطی است. این پژوهش درصدد است تا با روش توصیفی و تحلیلی در این زمینه به سؤالات ذیل پاسخ دهد: 1. مهارت های ارتباطی رفتاری از منظر قرآن کدامند؟ 2. مهارت های ارتباطی کلامی قرآن کدامند؟ 3. مهارت های ارتباطی غیرکلامی کدامند؟ بر اساس آموزه های قرآنی مهم ترین مهارت های رفتاری عبارتند از؛ اعتمادآفرینی، تعاون و همدلی، تواضع و فروتنی، مدارا، عفو و بخشش، احسان، نیکی در برابر بدی، تغافل، تشکر و قدردانی در برابر کار نیک. مهم ترین مهارت کلامی نیز سلام و جواب سلام، سخن شایسته، اجتناب از سخن زشت و نجوا، و مهم ترین مهارت های غیرکلامی نیز مهارت های چهره ای، چشمی، گریستن و خندیدن می باشند.
۲۶۵۲۷.

رویارویی حضرت مهدی(عج) و حضرت مسیح(ع) با دجال در شعر فارسی با تکیه بر آیات و روایات اسلامی(مقاله علمی وزارت علوم)

حوزه‌های تخصصی:
تعداد بازدید : ۱۸۷۴ تعداد دانلود : ۷۷۲
در بررسی بازتاب مضامین مربوط به «دجال» در شعر فارسی، تقابل دجال با حضرت مهدی(عج) و حضرت عیسی(ع)، نکته ای شایسته توجه است. گروهی از شاعران، مهدی(عج)، برخی، عیسی(ع) و برخی نیز هر دوی آن ها را در تقابل با دجال می نشانند. زمانی که این تقابل مطرح می شود، در واقع، تنها بیان یک واقعه نیست، بلکه زمینه ای است تا شاعر رویارویی چیزهایی دیگر، مانند رویارویی جان و تن، زمستان و بهار، عقل و عشق، جسم و روح، پادشاه و مخالفان، اهل حق و اهل باطل، خوبان و بدان و... را به تصویر بکشد. این مقاله، ابتدا تقابل دجال با حضرت مهدی و حضرت مسیح در روایات اسلامی را بررسی می کند و آنگاه به بیان این تقابل در شعر فارسی، همراه با شواهد شعری می پردازد. سرانجام، به تحلیل این نکته می پردازد که به چه دلیل، یک شاعر عیسی و شاعری دیگر، مهدی و شاعری نیز هر دوی آن ها را کشنده دجال می داند.
۲۶۵۲۸.

تأملی بر رابطه بین وحی قرآنی، وحی بیانی، حدیث قدسی و حدیث نبوی(مقاله ترویجی حوزه)

حوزه‌های تخصصی:
تعداد بازدید : ۱۲۳۴ تعداد دانلود : ۱۳۶۹
وحی، واسطه ارتباط خداوند متعال با پیامبراکرم (ص) و حدیث نبوی، مبیّن این وحی منزَل و رابط بین پیامبراکرم (ص) با مردم است. نوشتار پیش رو که با روش توصیفی-تحلیلی و در گستره بررسی آیات و روایات مرتبط با انواع وحی فراهم شده، می کوشد تا نشان دهد طبق آیه «وَ ما یَنْطِقُ عَنِ الْهَوى ، إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْیٌ یُوحى» و سایر آیات مشابه، نزول وحی بر پیامبر (ص)، به چهار شکل وحی قرآنی، وحی بیانی، حدیث قدسی و حدیث نبوی بوده است. نتایج پژوهش، بیانگر این است که مراد از وحی قرآنی، قرآن کریم است که از طریق وحی بر پیامبر (ص) نازل شده است. وحی بیانی، اختصاص به قرآن کریم دارد و به منظور تبیین آیات قرآن به معنای تفصیل جزئیات احکام، تخصیص عمومات و تقیید مطلقات قرآن است. ا
۲۶۵۲۹.

تشبه به مسیح در قوس زندگی حلاج(مقاله علمی وزارت علوم)

حوزه‌های تخصصی:
تعداد بازدید : ۹۰۸ تعداد دانلود : ۸۵۱
حسین بن منصور حلاج، صوفی و عارف بزرگ در سال ۳۰۹ق، به اتهام دعوی حلول و الوهیت در بغداد به دار کشیده شد. زان پس زندگی، آموزه ها و فرجام زندگی وی در تاریخ تصوف و فراتر از آن در ادبیات ایران بازتاب و مقبولیت کم نظیری یافته و با اسطوره درآمیخته است. روایات زندگی، فرجام و آموزه های منسوب به او، تداعی کننده زندگی و اندیشه عیسی مسیح(ع) در باور مسیحیان است. این مقاله با رویکردی تطبیقی تحلیلی سعی دارد برخی از همانندی ها و تفاوت های حلاج و حضرت مسیح(ع) را در سه بخش زندگی (سفرها، پیروان، کرامات و معجزات)، در مدعیات، رفتار و اندیشه، و نیز در فرجام زندگی (پیش گویی شهادت، نوشیدن جام، روز شهادت، نوع و کیفیت شهادت و...) بنمایاند و همچنین تفاوت های دو دسته روایات، افسانه ها و اسطوره ها را نشان دهد. تشابهات بسیاری که گاهی پژوهشگران پیشین فقط به مواردی اندک یا به اشاره ای گذرا بسنده کرده اند، در این مقاله با شرح و تبیین کامل بیان شده است؛ تشابهاتی که در قیاس با افتراقات، خواننده را به این نتیجه می رساند که اگر منصور حلاج را «مسیح پارسی» لقب دهند، نادرست نیست.
۲۶۵۳۰.

روش تمثیلی در تفسیر قرآنی و تکامل زبان عرفانی (نشانه شناسی تفسیر عرفانی در روح الارواح سمعانی)(مقاله علمی وزارت علوم)

حوزه‌های تخصصی:
تعداد بازدید : ۹۹۵ تعداد دانلود : ۱۰۵۱
پل نویا در کتاب تفسیر قرآنی و زبان عرفانی ، بسط و تکامل زبان و اندیشه عارفان را متأثر از زبان قرآن و مفاهیم آن می داند. از نظر او، تجربه عرفانی مبنای تفسیر قرآن قرار گرفته و سپس زبان قرآن برای بیان این تجارب به طور مستقل به کار رفته است. در این مقاله، با معرفی متنی دیگر و در امتداد مدل تکاملی زبان عرفانی در پژوهش پل نویا، نشان داده شده که زبان عرفانی در روش تفسیری و نقلی خود، از تجربه محوری مورد اشاره نویا عبور کرده و به روشی صوری و شکلی، از تفسیر قرآنی دست یافته است. مفسر عرفانی، در این شیوه، آیات و قصص قرآنی و دینی را صورت های همانندریخت برای گزاره های انتزاعی و ذهنی خود می داند. در این روش، واقعیت بیرونی و تاریخی روایت های دینی اهمیتی ندارد. آنچه اهمیت دارد، مفاهیم تجریدی و انتزاعی مورد نظر عارف است که برای بیان آن، روایت های دینی را به صورت ساختارهای تمثیلی، تفسیر می کند. این شیوه از یک سو به دلیل رها شدن از قید بافت و واقعیت بیرونی آیات و منابع خود، به زبان شعر و ادبیات نزدیک می شود و از سوی دیگر، به واسطه تکیه بر مدلول های انتزاعی و سویه معرفتی زبان خود، در دایره زبان دین قرار می گیرد و با زبان ادبیات و هنر مرزبندی دارد.
۲۶۵۳۱.

دیدگاه امام هادی (ع) و معتزله در زمینه اختیار

حوزه‌های تخصصی:
  1. حوزه‌های تخصصی علوم اسلامی تاریخ اسلام و سیره تاریخ و سیره شناسی تاریخ تشیع
  2. حوزه‌های تخصصی تاریخ گروه های ویژه تاریخ ادیان
تعداد بازدید : ۱۲۳۹ تعداد دانلود : ۷۷۸
امام هادی (ع) دهمین امام شیعیان از تاریخ 220 تا 254 هجری امامت شیعیان را بر عهده داشتند. بر ارباب معرفت پوشیده نیست که امامت، ادامه رسالت است و این رکن عظیم، عامل بیداری و جهش مسلمانان پس از رحلت رسول الله (ص) و زمینه ساز فرهنگ و تمدن غنی اسلامی بوده است. درباره امام هادی (ع) و نحوة زندگی و رفتار ایشان و آثار جاویدانی که در زمینه های عقیدتی و فقهی و قانونگذاری و اخلاق و تربیت و مبارزات سیاسی از خود بر جای نهاده اند، سخن گفتن از ارزشمندترین تجسم خارجی و راستین دین باوری و مجاهدت در راه تحقق آن است. امام هادی (ع) در دوران خویش مرجعیت علمی جامعه اسلامی بوده اند و به همین جهت است که می بینیم همواره محور حرکت ها و مبارزات علمی با جریان های انحرافی و افراط و تفریط های علمی ایشان بودند. از جمله این گروه ها معتزلیان هستند که امام هادی (ع) با کوشش ها و مناظرات علمی خود سعی در پاسخ گویی به رفع شبهات آن ها در مسائل مختلف از جمله بحث اختیار را داشته اند. در این پژوهش سعی شده است با روش توصیفی تحلیلی با استفاده از منابع تاریخی اصلی به این مسئله پاسخ گوییم که: امام هادی (ع) با استناد به چه مبانی و روشی در جهت رفع شبهات معتزلیان به ویژه مسئله اختیار تلاش کرده اند؟ امام هادی (ع) با استفاده از دلایل قرآنی و روائی و عقلی به تبیین اعتقادات شیعه و نقد مبانی معتزله پرداخته اند و به رفع شبهات و انحرافات اقدام کرده اند.
۲۶۵۳۲.

بررسی نظریه حجاب حداقلی دربارﺓ وضعیت پوشش در عصر جاهلیت و صدر اسلام(مقاله علمی وزارت علوم)

حوزه‌های تخصصی:
  1. حوزه‌های تخصصی علوم اسلامی تاریخ اسلام و سیره تاریخ و سیره شناسی تاریخ اسلام و عرب جزیره العرب قبل از اسلام
  2. حوزه‌های تخصصی تاریخ گروه های ویژه تاریخ زنان
تعداد بازدید : ۳۹۲۹ تعداد دانلود : ۲۱۵۷
نظریﮥ حجاب حداقلی ازجمله نظریه های ارائه شده دربارﺓ حجاب شرعی است. طرفداران این نظریه مدعی اند که در فرهنگ عمومی و رایج قبل از بعثت، برهنگی حتی در ناحیه شرمگاه وجود داشته است؛ به گونه ای که برای  مردان و زنان آن عصر، این مسئله امری عادی بوده است و احساس بدی نیز بدان نداشته اند. باوجود این وضعیت، شریعت مقدس اسلام تنها قادر بود که از آنها بخواهد برهنه راه نروند و الزام بانوان به پوشش موی سر و گردن و ساق پا در شریعت اسلام دور از انتظار است. در این مقاله با جستاری در منابع تاریخی و ادبی کهن و معتبر، به ویژه اشعار شاعران عصر جاهلیت، وضعیت پوشش بانوان در آن عصر بررسی شد؛ همچنین ادعاهای طرفداران حجاب حداقلی ارزیابی شد و چنین نتیجه گیری شد که برخلاف ادعای مطرح شده، فرهنگ رایج در آن عصر فرهنگ پوشش بوده است و مردمان آن عصر، به ویژه بانوان، برای پوشش قسمت های مختلف خویش، حتی موی سر، از لباس های دوخته و نادوخته متنوعی استفاده می کردند.
۲۶۵۳۳.

ﺗﺄثیر جریان فکری عبدالله بن مسعود و شاگردانش بر حوادث قرن اول قمری در کوفه(مقاله علمی وزارت علوم)

حوزه‌های تخصصی:
  1. حوزه‌های تخصصی علوم اسلامی تاریخ اسلام و سیره کلیات مکاتب، رویکردها و روش ها
  2. حوزه‌های تخصصی تاریخ گروه های ویژه تاریخ ادیان
تعداد بازدید : ۲۰۷۴ تعداد دانلود : ۱۰۵۶
پس از ارتحال پیامبر اکرم(ص) و به وجود آمدن کشمکش میان مسلمانان، گروهی با گردانندگان سقیفه هم پیمان شدند و گروهی نیز در مقابل آنان قرار گرفتند و خلافت و امامت را حق الهی حضرت علی(ع) دانستند. دراین بین گروهی از صحابه پیامبر(ص)، همچون عبدالله بن مسعود، بی طرفی و سکوت اختیار کردند و کم کم با سیاست های خلفا همداستان شدند و این گونه زمینه های لازم برای رشد و تولد گروه قاعدین فراهم شد. عبدالله بن مسعود در سال 21ق و به دستور خلیفه دوم و سِمت معلم قرآن رهسپار کوفه شد. حال سعی این مقاله برآن است تا با روش توصیفی تحلیلی و با استفاده از منابع اصلی کتابخانه ای، بازتاب جریان فکری عبدالله بن مسعود و شاگردانش را بر حوادث قرن اول قمری در کوفه واکاوی کند. نتایج حاصل از این پژوهش نشان می دهد که خط فکری عبدالله بن مسعود و شاگردانش در کوفه، ایجاد گروهی به نام قاعدین را باعث شد. این گروه در اختلاف ها و کشمکش های سیاسی و نظامی دوران حکومت امیرالمومنین(ع)، با دستاویز بی طرفی و دوری از فتنه، در ورطه «بی تفاوتی» افتادند. آنان از صحنه های سیاسی و اجتماعی غایب شدند و در جنگ های سه گا نه ای که برای امام علی(ع) پیش آمد، به بهانه های گوناگون خود را کنار کشیدند و در تضعیف حکومت آن حضرت نقش بسزایی داشتند.
۲۶۵۳۴.

مخنف بن سلیم ازدی؛ تقابل تعصب قبیله ای و گرایش های شیعی(مقاله علمی وزارت علوم)

نویسنده:
حوزه‌های تخصصی:
تعداد بازدید : ۱۳۹۵ تعداد دانلود : ۷۱۳
مخنف بن سلیم ازدی یکی از یاران حضرت علی(ع) در دوران خلافت آن بزرگوار بود؛ او باوجود داشتن گرایش های شیعی و مناصبی که در دولت علوی داشته، تبعیت همه جانبه نداشت. هدف از این مقاله، کنکاش این مسئله است که چرا وی در زمانی تابع امام(ع) و زمانی نیز به فرمان های آن حضرت بی اعتنا بود یا از نبردهای زمان آن حضرت اظهار نارضایتی می کرد. فرضیه پژوهش آن است که تضاد بین دو حس درونی مخنف بن سلیم، شامل تمایلات مذهبی و تعصب قبیله ای، علت تصمیم گیری های متفاوت وی بوده است. در این مقاله با استناد به سخنان و خطب و عملکرد خود مخنف این موضوع به روش توصیفی تحلیلی بررسی شده است. براساس یافته های این پژوهش، مخنف در جمل از هواخواهان جدی حضرت امیر(ع) بود و به همراه برادرانش، به درخواست کمک امام لبیک گفت؛ اما پس از مشاهده درگیری های دنباله دار در صفین و کشته شدن هم قبیله ای های خود، تحتﺗﺄثیر عصبیت قبیله ای، آن شور و همت دوران اولیه خلافت خلافت امام علی(ع) را ادامه نداد و تاحدودی موضعی انفعالی گرفت. به همین علت در جریان حکمیت نیز جزو سردارانی نبود که مُصّر بودند نبرد را ادامه دهند. پس از صفین نیز در مواقعی از دستورات امام علی(ع) تبعیت می کرد که با هواخواهی از افراد قبیله اش تعارضی نداشته باشد؛ البته حس هواخواهی از اهل بیت(ع) همواره تا زمان مرگ در وی وجود داشت. چنان که در سال 61ق، برخلاف برادرش، به یاری حسین بن علی(ع) نشتافت؛ اما در سال 64ق، به خونخواهی امام حسین(ع) همراه توابین قیام کرد و در عین الورده کشته شد.
۲۶۵۳۵.

التکرار فی الشعر الفلسطینی الحدیث؛ مجموعة العصف المأکول الشعریة نموذجًا(مقاله علمی وزارت علوم)

حوزه‌های تخصصی:
  1. حوزه‌های تخصصی علوم اسلامی ادبیات عرب شعر
  2. حوزه‌های تخصصی علوم اسلامی ادبیات عرب علوم بلاغه بدیع
تعداد بازدید : ۱۰۹۰ تعداد دانلود : ۷۹۹
یستهدف البحث دراسة ظاهرة التکرار بأنماطه المختلفة فی المجموعة الشعریة المعنونة ""العصف المأکول"". اتخذ الشاعر الفلسطینی الحدیث هذه التقنیة للتعبیر عما ألمّ بالشعب من مصیبات وویلات إثر الاحتلال الصهیونی من جانب، وإضفاء نمط من أنماط الموسیقی والإیقاع علی شعره من جانب آخر. کما یحاول البحث التعرف علی محاور التکرار وصوره المختلفة التی تمثّلت فی الصوت والکلمة و الفعل و الضمیر و الرموز والعبارة ودور هذه المحاور فی بناء الجملة وقدرتها علی تکوین السیاقات الشعریة الجدیدة معتمدا علی المنهج الأسلوبی. یتبین للقارئ عبر إمعان النظر فی هذه المجموعة الشعریة أنّ التکرار أقام صلات وطیدة بین الشاعر وما أصاب مسقط رأسه من ویلات ونکبات اعتصرت نفسه و من هنا خلق هذا الأسلوب البیانی نمطاً من الأجواء النفسیة داخل النسیج الشعری حیث جعلته یعبّر عنا ألمّ به من آلام نفسیة ومکنونات داخلیة بغیة تثبیت المقصود فی نفسیة المتلقّی. وأخیرًا خلص البحث إلی أنّ الشاعر الفلسطینی اتخذ التکرار أداة ناجعة للکشف عن هواجسه ومشاعره الدفینة، التأثیر فی المتلقّی، ورسم کل ما اقترف الکیان الصهیونی من الممارسات الإجرامیة.
۲۶۵۳۶.

منشأ الزام های اخلاقی از نظر کریستین کرسگارد(مقاله پژوهشی حوزه)

نویسنده:
حوزه‌های تخصصی:
تعداد بازدید : ۵۸۹ تعداد دانلود : ۴۸۸
یکی از موضوعات فرا اخلاقی، بحث از منشأ الزام های اخلاقی است. مسئله این است که الزام های اخلاقی، یعنی بایدها و نبایدهای اخلاقی از کجا ناشی می شوند؟ به باور خانم کریستین کرسگارد، فیلسوف معاصر آمریکایی، منشأ الزام های اخلاقی هویت اخلاقی انسان و انسانیت انسان است. انسان به دلیل خودآگاهی اش به صرف میل به چیزی آن را انجام نمی دهد، بلکه از خود می پرسد که آیا درست است که مطابق میل خویش رفتار کنم؟ کرسگارد که همانند کانت به ارزش ذاتی انسانیّت معتقد است، می گوید که دلایل ما برای انجام دادن چیزی را هویت و طبیعت ما مشخص می کند. هویت ما به عنوان انسان، زن یا مرد، عضوی از قوم یا نژاد، دین خاص یا طبقه اجتماعی خاص و ... الزام های نامشروطی را بر ما تحمیل می کنند. بنابراین، از نظر کرسگارد هویت ما به عنوان یک انسان منشأ هنجارها و الزام های اخلاقی ماست. نقض این الزام ها به معنای از دست دادن هویت ماست. انسانیت بخش مهم هویت ماست. به نظر می رسد افزون بر برخی اشکال ها بر نظریه اخلاقی کرسگارد، ایرادهای وارد بر نظریه اخلاقی کانت نیز بر آن وارد است؛ از جمله اینکه اصل انسانیت و هویت عملی انسانی نمی تواند همیشه به عنوان معیاری موفق در تشخیص فعل اخلاقی عمل کند.
۲۶۵۳۷.

تطابق ظهور ملکی با حقیقت ملکوتی قرآن(مقاله پژوهشی حوزه)

حوزه‌های تخصصی:
تعداد بازدید : ۷۴۹ تعداد دانلود : ۶۵۷
قاطبه دانشمندان مسلمان بر اساس دلالت آیات قرآن و بر پایه مبانی علمی، القای معانی و الفاظ قرآن را الهی دانسته اند.در مقابل، دیدگاه شاذی تنها القای حقیقت وحی و معانی آن را از سوی خدا، و گزینش الفاظ و واژگان وحیرا از سوی پیامبر می داند. به اقتضای این نظر، شخصیت پیامبر، تاریخ زندگی و احوال روحی او اعم از غم و شادی، در چگونگی انتخاب گزاره ها و واژگان وحی و اوج و حضیض آیات تأثیر گذار است. در این میان، معدودی قائل شده اند که برای قابل فهم کردن حقیقت متعالی وحی به اذهان مردم، پیامبر به ناچار در مورادی از دانش رایج در جامعه خود استفاده کرده است؛ دانسته هایی که چه بسا در ادوار بعدی و بر اساس پیشرفت علم بطلان آنها به اثبات رسیده است؛ در حالی که وی تنها مأمور ابلاغ وحی الهی بوده است. در این مقاله تبیین می شود که قرآن همانند همه موجودات عالم، مراتبی دارد که این مراتب کاملاً با یکدیگر تطابق دارند و در نتیجه، مرحله لفظی و ملکی قرآن بازتاب دهنده مرتبه ملکوتی آن است و بر مبنای اصل انطباق در همه مراحل، چیزی جز حق و صدق وجود ندارد. البته با این لحاظ که قرآن کلام وحی است و حقیقتی مستقل از وجود طبیعی پیامبر (ص) دارد.
۲۶۵۳۸.

تبیین همسویی دیانت و عقلانیت(مقاله پژوهشی حوزه)

نویسنده:
حوزه‌های تخصصی:
تعداد بازدید : ۸۵۹ تعداد دانلود : ۷۰۴
چگونگی امکان همسویی میان عقلانیت و دیانت، مسئله ای است که با وجود دیدگاه های متنوع و گاه ناهمگون درباره آن، اهمیت نسبت این دو را نزد محققان دین و فلسفه نشان می دهد. دیانت، عبارت است از پذیرش یقینی اصول و آموزه های تفصیلی دین، آن گونه که مقصود است؛ و عقلانیت عبارت است از عبور به واقع و اکتشاف آن بر پایه پذیرش اصول ناب و ضروری الصدق عقل. از اینکه بسیاری از فیلسوفان بزرگ تاریخ، از جمله فیلسوفان مسلمان، از عالمان دین اند، می توان همسویی میان عقلانیت و دیانت را دریافت، ولی در عین حال چگونگی امکان این همسویی نیازمند تبیین است. ویژگی خاص پرسش ها و پاسخ های پیشین عقل می تواند نقطه آغاز برای نشان دادن این همسویی و نیز تبیینی، هم برای ارتباط میان عقل و دین و هم اهتمام دین به عقل باشد. این همسویی با شروطی تا پرسش ها و پاسخ های رده های بعد که همگی اکتسابی اند و خواص دیگری دارند امتداد می یابد. در این نوشتار، کوشش شده است تا روش فیلسوفان مسلمان در پیوند میان پژوهش های محض فلسفی و پژوهش های اجتهادی در متون و آموزه های دین و نیز منزلت هر کدام آنها در باور ایشان بیان شود تا درنهایت این همسویی نه تنها در واقع و نفس الامر که در این دو سنخ از پژوهش ها نیز آشکار گردد.
۲۶۵۳۹.

مفهوم شناسی جنت در قرآن کریم(مقاله علمی وزارت علوم)

حوزه‌های تخصصی:
تعداد بازدید : ۱۶۴۹ تعداد دانلود : ۶۰۸
در قرآن کریم از انواع مختلفی از جنت نام برده شده که اوصاف و درجات آنها نیز باهم متفاوت است. بررسی اصناف و القاب جنت در قرآن کریم از دیدگاه تفاسیر مهم فریقین و نیز تحلیل مراتب گوناگون آن در قرآن کریم از مهم ترین اهداف این مقاله است. براساس یافته های این مقاله که به روش توصیفی تحلیلی به رشته تحریر درآمده است، اوصاف و درجات مطرح شده در قرآن کریم در نهایت جزء یک جنت واحد هستند و تفاوت آنها در تفاوت ایمان و عمل صالح بهشتیان است. در بهشت نظام فعلی برچیده شده و تنها سببی که در آنجا کارگر است، اراده و خواست آدمی است که هرچه بخواهد خدا برایش خلق می کند. هرکس مرتبه بالاتری در بهشت دارد، از مراتب پایین تر هم بهره مند است، ولی هرکس در مرتبه پایین تر باشد، از مراتب فوق مرتبه خود، بهره ای ندارد. باطن هر نعمت بهشتی، حقیقت اسمی از اسمای الهی است. مقام علیین بالاترین درجه بهشت است که مشابه مقام وسیله است که مقربان الهی در آنجا سکنی دارند. بهشت مانند وجود انسان یک بعد مثالی و ملکوتی و یک بعد مادی و طبیعی دارد. بهشتیان در بهشت، در سلامت و امنیت کامل هستند و با تسبیح و تقدیس الهی به درجات کمال بیشتری نیز نایل می شوند.
۲۶۵۴۰.

مطالعه تطبیقی رویکرد شیعیان و اهل سنت در مقابله با غالیان(مقاله علمی وزارت علوم)

حوزه‌های تخصصی:
تعداد بازدید : ۶۵۷ تعداد دانلود : ۷۷۲
پیدایش غلو در میان برخی از مسلمانان و ظهور فرقه های غالی، واکنشهای شدید سایر مسلمانان را علیه غالیان به دنبال داشت. نسبت دادن الوهیت، نبوت و علم غیب به افراد، و اعتقاد به تشبیه، تناسخ، رجعت، بداء و اباحه در نگاه اهل سنت از عناصر شکل دهنده غلو تلقی شد، در حالی که «رجعت» و «بداء» از عقاید کلامی امامیه هم هستند. این پژوهش با رویکرد توصیفی تحلیلی نگاشته شده، و به بررسی شباهتها و تفاوتهای دیدگاه شیعه و اهل سنت در انگاره های غلوآمیز می پردازد. همچنین گرایش به غلو بر مبنای کنشهای اجتماعی چهارگانه نظریه جامعه شناسی «ماکس وبر» مورد تحلیل و بررسی قرار گرفته، تا روشن گردد که اهل سنت و شیعیان تا چه اندازه نسبت به غلو دانستن برخی باورها، با یکدیگر هم داستان هستند و ریشه تفاوتهای میان آنان در چیست؟ فرضیه اول تحقیق، این است که دیدگاههای شیعه و سنی در تقابل با غلو بسیار به هم نزدیک است و گرایشهای عام به غلو در میان مسلمانان به خصوص شیعیان، عمدتاً معطوف به کنشهای نوع سوم و چهارم بوده است.

پالایش نتایج جستجو

تعداد نتایج در یک صفحه:

درجه علمی

مجله

سال

زبان