ترتیب بر اساس: جدیدترینپربازدیدترین
فیلترهای جستجو: فیلتری انتخاب نشده است.
نمایش ۲۶٬۷۴۱ تا ۲۶٬۷۶۰ مورد از کل ۸۳٬۰۳۰ مورد.
۲۶۷۴۱.

تشابهات و تمایزات فقه فردی و حکومتی(مقاله علمی وزارت علوم)

نویسنده:
حوزه‌های تخصصی:
تعداد بازدید : ۸۰۲ تعداد دانلود : ۷۷۸
بررسی و شناخت روش دانشمندان در هر علمی از اهمیت بالایی برخوردار است؛ چه اینکه شناخت این روش به محققان هر رشته این امکان را می دهد که چگونگی بهره برداری از منابع آن رشته را فراگیرند و برای تحقیق و پژوهش و بررسی و نقد یافته های دیگر دانشمندان- با روش و شیوه پذیرفته شده آن رشته- اقدام نماید. در این میان، روش شناسی علم فقه نیز در خور توجه است. به طور کلی، بررسی رفتار علمی فقها نشانگر آن است که دو روش فردگرایانه و جمع گرایانه وجود دارد که اولی در جریان استنباط تنها به فرد و شرایط او توجه دارد؛ اما روش دوم به فرد به عنوان عضوی از یک جامعه نظر کرده و مناسبات و شرایط پیچیده حاکم بر جامعه را نیز در نظر می گیرد. بنابراین پرسش اصلی این پژوهش آن بود که فقه فردی و فقه حکومتی چه شباهتها و تفاوتهایی با هم دارند؟ پاسخ این پرسش که با روش توصیفی- تحلیلی بررسی شد، مؤید آن بود که فقه فردی و فقه حکومتی در برخی حوزه ها- همچون یکسان بودن منابع- شبیه هم بوده و در برخی- همچون ارکان و مقومات- متفاوتند. همچنین یافته های پژوهش نشان داد که با توجه به شرایط امروز و تشکیل حکومت اسلامی، بهره گیری از روش فقه حکومتی بر فقه فردی ترجیح دارد؛ به نحوی که می تواند مبانی نظری دولت، حکومت و تمدن اسلامی را ارائه نماید.
۲۶۷۴۲.

حقوق متقابل مردم و حاکم در حکومت اسلامی (از دیدگاه نهج البلاغه)(مقاله علمی وزارت علوم)

حوزه‌های تخصصی:
تعداد بازدید : ۲۴۹۱ تعداد دانلود : ۸۲۰
در حکومت اسلامی، قوانین حاکم بر اساس مبانی دینی و الهی ترسیم می شود؛ لذا انتظار از چنین جامعه ای، رفتارهای دین مدارانه است؛ از همین رو، توقع از حاکمان این حکومت این است، که رفتارهای خود را با دیگران- اعم از مخالف و موافق- بر اساس دستورات دینی استوار گردانند؛ به همین ترتیب از مردم نیز انتظار می رود روابط خود را با حکومت، بر اساس روابط دینی تنظیم نمایند. از طرف دیگر، از مهم ترین حقوق حاکم بر مردم، اطاعت از دستورات او، حمایت از او و داشتن رفتار خیرخواهانه نسبت به حکومت و حاکم است. در اندیشه سیاسی امام علی علیه السلام رابطه حقوقی مردم و حکومت رابطه ای دوجانبه و متقابل- و به دور از هر گونه تبعیض و دوگانگی- است؛ چه اینکه اگر حقی هست در هر دو سوی این رابطه وجود دارد؛ به نحوی که هر دو طرف ملزم به رعایت آن هستند. در این پژوهش تلاش می شود به بررسی حقوق متقابل مردم و حاکم در دین اسلام- مطابق با آموزه های محموعه ارزشمند نهج البلاغه- پرداخته شود.
۲۶۷۴۳.

سائبر اسپیس میں موجودہ تعلیمی مواقع(مقاله علمی وزارت علوم)

حوزه‌های تخصصی:
تعداد بازدید : ۶۷۰ تعداد دانلود : ۴۳۲
سائبر اسپیس معلومات کا وہ ذخیرہ ہے جس میں ہر طرح کی کتب ، مقالہ جات اور تحقیقات نہ صرف محفوظ کی گئی ہیں بلکہ ہر گزرتے دن ان معلومات میں اضافہ کیا جا رہا ہے ۔ تعلیمی، سماجی اور اقتصادی خوشحالی میں سائبر اسپیس اپنا کردار ادا کرنے میں ایک حقیقت بن چکی ہے ۔ سائبر اسپیس نے ہر شعبہ زندگی میں بنی نوع انسان کے لیے ترقی اور علم کی نئی جہتیں روشناس کروائی ہیں ۔ ہر دور میں علم کا حصول انسان کا ایک اہم ترین مقصد رہا ہے ۔ علم کی پیا س بجھانے کے لیے طلباء دور دراز کا سفر کرتے چلے آئے ہیں ۔علم کی پیاس بجھانے میں وقت اور حالات ہمیشہ آڑے آتے رہے تاہم اس تشنگی کو بجھانے کے لیے سائبر اسپیس ایک اہم کردار ادا کر سکتی ہے ۔ مذاہب کے مابین مکالمہ ہو یا مختلف مذاہب کا تقابلی جائزہ ، سائبر اسپیس کی مدد سے تبصرہ یا تجزیہ کرنا بے حد آسان بن چکا ہے ۔ اب طالب علم کے لیے عالمی سطح کے علم کا حصول ناممکن نہیں رہا ۔ دین اور دینی معلومات کے فروغ کے لیے سائبر اسپیس اپنی ایک منفرد حیثیت رکھتی ہے ۔ وہ وقت اب ماضی کا حصہ بن چکا ہے جب ہاتھ سے خطوط لکھ کر اپنا مدعا بیان کیا جاتا تھا ۔ کسی بھی مضمون کی معلومات کے لائبریریوں کو چھان مارا جاتا تھا ۔سائبر اسپیس نے ہر طرح کی معلومات کو بس ایک کلک کی دوری پر رکھ چھوڑا ہے ۔ ادہر مطلوبہ معلومات کے مضمون کو سرچ انجن پر لکھیے ادہر دنیا جہان کے علم کا خزانہ آپ کے کمپیوٹر کی اسکرین پر حاظر ہو جائے گا ۔ اس تمام معلومات میں سے اپنی مطلوبہ معلومات کو چن کر اپنی تحقیق کو جدید ترین بنایا جا سکتا ہے ۔ سائبرا سپیس کا دینی اور دنیاوی علم کے حصول کے لیے نہ صرف اہم کردار ہے بلکہ سماجی ، تعلیمی ، علاقائی ، اقتصادی، تہذیبی ، نفسیاتی ترقی میں بھی سائبر اسپیس کے کردار سے انکار ممکن نہیں۔سائبر اسپیس نے طالب علموں، تحقیق کاروں اور اساتذہ کے لیے بے شمار معلومات کا ذخیرہ پیدا کر دیا ہے ۔یہ معلومات جہانِ عالم کی ایک شاخ سے تعلق رکھتی ہیں چاہے وہ آرٹ یو ، فنون لطیفہ ہوں ، آرکیٹیکچر ہو ، سیاست ہو، مذہب ہو یا ادب ۔ گویاسائبر اسپیس کی وجہ سے ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والوں کے لیے مطلوبہ معلومات بیش بہا تعداد میں موجود ہے ۔ دنیا کے ایسے دور دراز علاقے جہاں طلباء کے لیے غربت کے باعث سفر کرنا ممکن نہیں ان کے سائبر اسپیس کسی نعمت سے کم نہیں کیونکہ یہ سائبر اسپیس ہی ہے جو ایسے علاقوں میں معلومات باہم پہنچانے کا واحد او ر مؤثر ذریعہ ہے ۔ صرف یہی نہیں ۔یہ سائبر اسپیس کا ہی کمال ہے کہ علم کا وہ ذخیرہ جس کو محفوظ کرنے کے لیے کئی کئی ایکڑ پر محیط لائبریریوں کی ضرورت تھی آج اس کے لیے نہ تو بڑی جگہ کی ضرورت ہے اور نہ ہی ان گنت کتب کی ۔ یہاں تک کہ مطلوبہ مضمون کے مطابق معلومات کی باہم اور جلد فراہمی چند سیکنڈ میں ممکن بنا دی گئی ہے ۔ آج سائبر اسپیس کی وجہ سے انسان نے نہ صرف روئے زمین پر بلکہ سمندر اور خلاؤں کی تسخیر ممکن بنا لی ہے۔ ائیرو سپیس ٹیکنالوجی کی بدولت آج کا انسان دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک باآسانی پہنچ جاتا ہے۔ انسان نے وقت کے دھارے کے ساتھ ساتھ چلنے کی وجہ سے کم از کم وقت میں زیادہ سے زیادہ مقاصد کے حصول کو ممکن بنا دیا ہے ۔ کمیونیکشن کے میدان میں انسان نے فضا ء میں موجود لہروں پہ بھی کمال کی قدرت حاصل کی ہے ۔ دنیا کے کسی بھی کونے میں کوئی واقعہ رونما ہو جائے تو کمیونیکیشن سسٹم کے ذریعہ دنیا کے کسی بھی ملک میں چند لمحوں میں اس خبر کو پہنچا دیا جاتا ہے ۔ سائبر اسپیس کی بدولت دنیا سمٹ چکی ہے اور ہر طرح کی خبروں کی ترسیل منٹوں تو دور کی بات سیکنڈ میں کر دی جاتی ہے ۔ ہر ملک کے باشندے دوسرے ملک کے بارے میں معلومات رکھتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف تہذیبیں آپس میں مدغم ہوتی چلی جا رہی ہیں ۔ سائبر اسپیس نے انسان کی ترقی کی راہیں کھول دی ہیں ۔ سائبر اسپیس کی بدولت انسان نے نہ صرف اپنی علمی کمی کو پورا کیا ، انسانیت کا درس حاصل کیا بلکہ اقوامِ عالم کی تہذیبی اور اقتصادی ترقی بھی حاصل کی ۔ الغرض ہر شعبہ زندگی میں سائبر اسپیس اپنا ایک اہم کردار ادا کر رہی ہے ۔
۲۶۷۴۴.

Future Studies of Religious Education based on Virtual Learning(مقاله علمی وزارت علوم)

نویسنده:
حوزه‌های تخصصی:
تعداد بازدید : ۵۶۸ تعداد دانلود : ۳۸۷
A detailed analysis of current trends in virtual learning that can be applied for future studies of religious education and sharing results of introducing a new concept of virtual E-learning in Shia Islamic Education. A detailed study and analysis of latest trends in virtual Learning being applied in different educational sectors that is yielding great benefits for educating young generation. Also share the outcome of applying these new virtual learning trends and techniques used in introducing a new concept of E-learning in Shia Islamic Education Platform by the name of ‘KAZ Online School’. The results will be based on quantitative statistical analysis based on behaviours and adaptive trends of more than 200 subscribers/learner’s of KAZ Online School. Virtual learning can help us to propagate the Islamic education across the globe to even remote areas and unlock new arenas for both preaching the true Islamic concepts within Islamic community and inter-faith dialogue. For this we need to understand the reaping benefits of latest developments and technologies being used in virtual learning space by different educational sectors. And then apply this to our current Islamic Education methodologies. This detail study and analysis will help to understand the future trends that are required to be adapted to attract and inspire future generations towards great treasure of Islamic education and values through virtual learning.
۲۶۷۴۵.

کاربردشناسی معنایی ترکیب "الله الله"در متون عربی و فارسی(مقاله علمی وزارت علوم)

حوزه‌های تخصصی:
تعداد بازدید : ۸۳۰ تعداد دانلود : ۶۶۳
در ادبیات عربی و فارسی ترکیب "الله الله"کاربردهای فراوانی دارد. هرچند شکل ظاهری آن در همه موارد یکسان است اما معنای آن در وضعیت های مختلف گوناگون است. شناخت معانی آن کمک شایانی به درک متونی دارد که این ترکیب در آن ها به کاررفته است. آیا این ترکیب تنها یک معنا دارد یا برای آن معانی گوناگونی وجود دارد؟ چگونه می توان به معانی مختلف دست یافت؟ با بررسی استنادی و تحلیلی و با استقراء موارد کاربرد آن می توان به معانی گوناگون آن دست یافت. کاربرد معروف آن تحذیر و اغراء است، اما علاوه بر موارد ذکر شده در خصوص قسم، شگفتی و تعجب، هشدار و آگاه کردن، گواه گرفتن خداوند بر اعمال و گفتار و تأکید کردن نیز به کاررفته است.
۲۶۷۴۶.

تأملی بر رابطه بین وحی قرآنی، وحی بیانی، حدیث قدسی و حدیث نبوی(مقاله ترویجی حوزه)

حوزه‌های تخصصی:
تعداد بازدید : ۱۲۴۶ تعداد دانلود : ۱۳۹۷
وحی، واسطه ارتباط خداوند متعال با پیامبراکرم (ص) و حدیث نبوی، مبیّن این وحی منزَل و رابط بین پیامبراکرم (ص) با مردم است. نوشتار پیش رو که با روش توصیفی-تحلیلی و در گستره بررسی آیات و روایات مرتبط با انواع وحی فراهم شده، می کوشد تا نشان دهد طبق آیه «وَ ما یَنْطِقُ عَنِ الْهَوى ، إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْیٌ یُوحى» و سایر آیات مشابه، نزول وحی بر پیامبر (ص)، به چهار شکل وحی قرآنی، وحی بیانی، حدیث قدسی و حدیث نبوی بوده است. نتایج پژوهش، بیانگر این است که مراد از وحی قرآنی، قرآن کریم است که از طریق وحی بر پیامبر (ص) نازل شده است. وحی بیانی، اختصاص به قرآن کریم دارد و به منظور تبیین آیات قرآن به معنای تفصیل جزئیات احکام، تخصیص عمومات و تقیید مطلقات قرآن است. ا
۲۶۷۴۷.

تشبه به مسیح در قوس زندگی حلاج(مقاله علمی وزارت علوم)

حوزه‌های تخصصی:
تعداد بازدید : ۹۱۵ تعداد دانلود : ۸۶۲
حسین بن منصور حلاج، صوفی و عارف بزرگ در سال ۳۰۹ق، به اتهام دعوی حلول و الوهیت در بغداد به دار کشیده شد. زان پس زندگی، آموزه ها و فرجام زندگی وی در تاریخ تصوف و فراتر از آن در ادبیات ایران بازتاب و مقبولیت کم نظیری یافته و با اسطوره درآمیخته است. روایات زندگی، فرجام و آموزه های منسوب به او، تداعی کننده زندگی و اندیشه عیسی مسیح(ع) در باور مسیحیان است. این مقاله با رویکردی تطبیقی تحلیلی سعی دارد برخی از همانندی ها و تفاوت های حلاج و حضرت مسیح(ع) را در سه بخش زندگی (سفرها، پیروان، کرامات و معجزات)، در مدعیات، رفتار و اندیشه، و نیز در فرجام زندگی (پیش گویی شهادت، نوشیدن جام، روز شهادت، نوع و کیفیت شهادت و...) بنمایاند و همچنین تفاوت های دو دسته روایات، افسانه ها و اسطوره ها را نشان دهد. تشابهات بسیاری که گاهی پژوهشگران پیشین فقط به مواردی اندک یا به اشاره ای گذرا بسنده کرده اند، در این مقاله با شرح و تبیین کامل بیان شده است؛ تشابهاتی که در قیاس با افتراقات، خواننده را به این نتیجه می رساند که اگر منصور حلاج را «مسیح پارسی» لقب دهند، نادرست نیست.
۲۶۷۴۸.

تحلیل سند و محتوای دو حدیث رضوی درباره خلقت نوری(مقاله علمی وزارت علوم)

نویسنده:
حوزه‌های تخصصی:
تعداد بازدید : ۱۳۱۶ تعداد دانلود : ۶۸۲
روایات دال بر خلقت نوری اهل بیت (ع) درمنابع حدیثی شیعه به تعداد زیاد و با طرق مختلف و مضامین مشابه از پیامبر (ص) و امامام معصوم (ع) نقل شده است. با وجود کثرت نقل این احادیث ازدیگر معصومان، از امام رضا (ع) تنها دو روایت دراین باره نقل شده است. در این مقاله این دو روایت نخست از نظر سندی، اعتبارسنجی رجالی شده و نیز تلاش شده با یافتن نخستین منابع مکتوب مشتمل بر آن ها تاریخ نقل شان پیگیری و کهن ترین زمان نقل آن ها شناسایی شود. همچنین، این مقاله مضمون این دو روایت را با دیگر روایات احیانا صحیح درباره خلقت نوری می سنجد تا میزان انطباق یا سازگاری آن ها را مشخص کند. این مقاله در نهایت نتیجه می گیرد که دو حدیث منقول از امام رضا(ع) به رغم ضعف سند با توجه به مجموع شواهد تاریخی و مضمونی قابل قبول است.
۲۶۷۴۹.

بازجُست و تبیین بدل حیلوله به مثابه رافع اختلال در رابطه مالک و اموال(مقاله پژوهشی حوزه)

حوزه‌های تخصصی:
تعداد بازدید : ۸۰۸ تعداد دانلود : ۷۲۶
هرگاه برگرداندن عین مغصوب و مضمونْ ناشدنی و متعذر باشد، اکثریت فقیهان ضامن را مسئول پرداخت بدل آن دانسته اند و آن را «بدل حیلوله» نامیده اند. کارکرد این بدل برطرف کردن اختلالی است که غاصب در رابطه و علقه مالک با مالش پدید آورده است. از ادله فراوانی استمداد شده تا این مدعا بر کرسی اثبات و اعتبار بنشیند. اما هرکدام از ادله، به تنهایی نمی تواند، به گونه ای کامل، همه مصادیق تعذر را دربر گیرد. فروعات بدل حیلوله، ازقبیل مالکیت بدل و مبدل، و منافع آنها، به مفاد و توان اثباتیِ دلیل پذیرفته شده بستگی و وابستگی دارد. قصد و اراده طرفین که می تواند ناشی از پذیرش دلیل بنای عقلا باشد، مغفول مانده است. بدون دخالت نیت و خواست طرفین، نمی توان احکام یکدست و ثابتی برای بدل حیلوله یافت. با ورود بنای عقلا، قصد و اراده طرفین جایگاه خود را می یابد. گزارشی تبیینی از مناط و ملاک حکم، ارزیابی ادله، صورت بندی آنها، چیستی بدل، به ویژه مالکیت که چون عویصه ای رخ نمودهو نیز بررسی انگاره های گوناگونی که برای حل آن ارائه شده، تصویر اجمالی راهِ پیموده شده است.
۲۶۷۵۰.

جریان شناسی و آسیب شناسی تفسیر تطبیقی در سده های چهارم تا ششم هجری(مقاله علمی وزارت علوم)

حوزه‌های تخصصی:
تعداد بازدید : ۱۳۱۸ تعداد دانلود : ۷۸۴
مطالعات تطبیقی از اتفاقات خجسته ای است که در دوره معاصر، علوم انسانی را در نقطه عزیمت برای پیشرفت چشمگیر قرار داده است. دانش های دینی و از جمله، تفسیر قرآن نیز می تواند یکی از جلوه های این گونه مطالعات باشد. اندیشه خاص مذهبی مفسران سبب تولید فرآورده های تفسیری متفاوت شده، به طوری که تأثیر دو مکتب تشیع و تسنّن بر تفسیر برخی آیات، به ویژه آیات کلامی و فقهی، انکارناپذیر است. کاربست رویکرد تطبیقی در تفسیر این دسته از آیات، ضمن آنکه به شفافیت آرای تفسیری فریقین می انجامد، باعث رشد و بالندگی دانش تفسیر و گزینش آرای قوی تر از سوی مفسران نیز خواهد شد. پژوهش حاضر درصدد است تا پیدایش رویکرد تطبیقی در تفسیر و نیز سیر تحول آن را با مطالعه اهمّ تفاسیر اجتهادی فریقین در سده های چهارم، پنجم و ششم به انجام رساند. در این مقاله، برخی از آیاتی که بیش از دیگر آیات، معرکه آرای فقهی یا کلامی شیعه و اهل سنت بوده اند، انتخاب کرده ایم و دیدگاه مفسران یک مذهب در برخورد با آرای تفسیری مذهب دیگر ارزیابی نموده ایم. نگارندگان این مقاله درصدد هستند بدین پرسش پاسخ دهند که رویکرد تطبیقی در تفاسیر مورد بررسی چه ویژگی هایی دارد و هر یک از مفسران به آرای مخالف مذهب خود چگونه نگریسته است و با چه معیارهایی به طرح و نقد این آرا پرداخته است. نتایج این تحقیق نشان می دهد که همزمان با رشد و توسعه دو دانش کلام و فقه در سده های میانی، رویکرد تطبیقیِ شیعی سنّی به تفاسیر اجتهادی راه یافته است و در هر دو مکتب، سیری تکاملی داشته است و مفسران بعدی نقاط ضعف مفسران قبلی را جبران کرده اند. نمونه هایی که در این تحقیق بررسی شده اند، حاوی نکاتی است که نقاط قوّت و ضعف در تفسیر تطبیقی را نشان می دهد که این امر می تواند چراغ راهی برای مفسران و نیز نقطه عزیمت خوبی برای دانش تفسیر به شمار آید.
۲۶۷۵۱.

شجره ملعونه درقرآن

نویسنده:
حوزه‌های تخصصی:
تعداد بازدید : ۶۰۴ تعداد دانلود : ۵۱۱
چکیده براساس آیه 60 سوره مبارکه اسرا پدیده نامبارک «شجره ملعونه» درعالم رؤیا ازجانب خداوند به پیامبر (صل الله علیه وآله) نشان داده شده وآنرا مایه آزمایش برای بندگان معرفی کرده است، اکثر دیدگاهای مفسران شیعه وبرخی اهل سنت درتفسیر  رؤیا آنرا درخواب دیدن بنی امیه میدانند، بدیهی است که با پذیرفتن این نظریه  مشخص می شود که مصادیق بارزاین درخت نفرین شده همان سلسله سلاطین بنی امیه است که بنیان گذارآن شخص ابوسفیان بود که درنتیجه ضربات سنگین را برپیکره اسلام تزریق نمود اما براساس قرائن وقواعد اصحاب شجرنمی تواند منحصربه زمان ومکان باشد این پدیده شوم ممکن است درهربرهه از زمان ومکان خودنمائی کند وبا توجه به شرائط فعلی می تواند ثمرات به مراتب خطرناک تری داشته باشد نگارنده تلاش دارد درصفحات اندک برخی ازمهم ترین مصادیق وثمرات این جریان را به تحریر درآورد.  
۲۶۷۵۲.

احکام ساختن و پیراستن مسجد

نویسنده:
حوزه‌های تخصصی:
تعداد بازدید : ۴۸۱ تعداد دانلود : ۹۷۷
مسجد، معبد مسلمانان است و احکام و قوانین خاصی دارد که رعایت آن احکام و دستورات برای حفظ قداست، حرمت و شأن آن لازم است. بنابراین، اهانت به مسجد و شکستن حرمت آن بدون شک از گناهان بزرگ است. اسلام به منظور حفظ حرمت مسجد براى مسلمانان وظایف، احکام و مقرراتى را وضع کرده است. از مهمترین موارد در بنای مسجد رعایت احکام زمینی است که مسجد در آن بنا شده است. از جمله احکامی که در هنگام تهیه زمین برای بنای مسجد اهمیت بسیاری دارد، توجه به حلال و طیب بودن زمین مسجد است، همچنین دستور داده شده که زمین مسجد قبل از مسجد شدن برای امر دیگری وقف نشده یا قبرستان نباشد. از دیگر احکام مسجد می  توان به حکم زینت کردن مسجد با طلا، رعایت سادگی در بنای مسجد، نقاشی و نصب عکس در مسجد، استفاده شخصی از امکانات مسجد، خرید و فروش ابزار و وسایل مسجد، احکام تخریب مسجد اشاره کرد.
۲۶۷۵۳.

نقش والدین در تربیت دینی کودک از نظر پیامبر صلی الله علیه و آله و امام صادق علیه السلام

نویسنده:
حوزه‌های تخصصی:
تعداد بازدید : ۶۹۱۴ تعداد دانلود : ۲۱۲۷
یکی از مهمترین وظایف دینی و اجتماعی والدین (پدر و مادر) تربیت دینی کودک است. والدین نقش بسیار مهمی در شکل  دهی به شخصیت فرزند ایفا می  کنند. دوران کودکی مهمترین مرحله رشد است و عواطف عمیق والدین در شکل  گیری شخصیت کودک در این دوران نقش بزرگی دارد؛ زیرا خانواده نخستین کانون تربیت است. خانواده مدرسه بزرگ تربیتی است که کودک به تدریج از رفتارهای والدین الگوبرداری می  کند، بنابراین مسئولیت پدر و مادر تنها تأمین غذا، لباس و بهداشت کودک نیست، بلکه باید کودک را مطابق دستورات پیشوایان دینی تربیت کنند و بر رفتار، کردار، عبادت و دوستان کودکانشان نظارت کنند. توجه والدین به کودک موجب رشد و شادابی و تربیت صحیح و سالم وی می  شود. پژوهش حاضر با هدف بررسی نقش والدین در تربیت دینی کودک از منظر پیامبر گرامی اسلام؟ص؟ و امام صادق؟ع؟ انجام شد. ازاین  رو، پس از بیان ویژگی  های فطری و غریزی کودک، نقش پدر و مادر در تربیت دینی کودک بررسی شد؛ زیرا اگر فرزندان تربیت صحیح و مطابق با موازین و دستورات دین مقدس اسلام نداشته باشند، افراد صالح و سودمندی برای جامعه نخواهد شد.
۲۶۷۵۴.

بررسی رابطه روش های تربیتی مادران با مسئولیت پذیری پسران (با تاکید بر آموزه های تربیت اسلامی)(مقاله علمی وزارت علوم)

حوزه‌های تخصصی:
تعداد بازدید : ۸۰۲ تعداد دانلود : ۵۲۹
پژوهش حاضر با هدف بررسی رابطه روش های تربیتی مبتنی بر آموزه های تربیت اسلامی مادران با مسئولیت پذیری دانش آموزان پسر پایه ششم ابتدایی انجام گرفت. طرح تحقیق توصیفی از نوع همبستگی است. جامعه آماری پژوهش شامل کلیه دانش آموزان پسر پایه ششم ابتدایی شهرستان بروجرد (94-1393) بوده است. از این جامعه با استفاده از روش نمونه گیری تصادفی خوشه ای، تعداد 300 نفر از دانش آموزان پسر به عنوان حجم نمونه انتخاب شدند. ابزار جمع آوری اطلاعات 1-پرسش نامه تجدید نظر شده روش های تربیتی مادران مبتنی بر آموزه های تربیت اسلامی(اسفندیاری، 1374) و 2-پرسشنامه مسئولیت پذیری(نعمتی، 1388) بود. در این مطالعه روایی هر دو پرسش نامه به صورت محتوایی و پایایی آن ها با روش آلفای کرونباخ به ترتیب 77/0 و 92/0 محاسبه شد. جهت تجزیه و تحلیل اطلاعات از ضریب همبستگی پیرسون و رگرسیون چند متغیره استفاده شد. نتایج به دست آمده نشان داد که بین روش تربیتی اقتدار منطقی مادران و مسئولیت پذیری پسران رابطه مثبت و بین روش تربیتی سهل گیرانه و سخت گیرانه مادران با مسئولیت پذیری پسران رابطه منفی معنادار وجود دارد. همچنین بین روش تربیتی اقتدار منطقی با خودمدیریتی، قانونمندی، امانت داری، وظیفه شناسی و سازمان یافتگی همبستگی مثبت معنا داری مشاهده شده است. علاوه بر این نتایج نشان داد که روش تربیتی سخت گیرانه نمی تواند به تنهایی مسئولیت پذیری دانش آموزان را پیش بینی کند. بنابراین دانش آموزانی که با روش اقتدار منطقی پرورش یافته اند از مسئولیت پذیری بیشتری نسبت به دانش آموزانی که با دو روش سهل گیر و سختگیرانه پرورش می یابند برخوردار بودند.
۲۶۷۵۵.

مقایسه سبک زندگی مادران حافظ قرآن و همتایان آنان در شهر تهران(مقاله علمی وزارت علوم)

حوزه‌های تخصصی:
تعداد بازدید : ۶۰۱ تعداد دانلود : ۵۵۷
پژوهش حاضر با هدف مقایسه سبک زندگی مادران حافظ قرآن و همتایان آنان ا (مادران غیر حافظ قرآن )انجام گرفت. روش پژوهش توصیفی از نوع همبستگی بود. جامعه آماری این پژوهش مادران حافظ قرآن و همتایان آنان (مادران غیر حافظ قرآن )در شهر تهران بودند که از میان آن ها تعداد 92 نفر از مادرانی که حداقل سه جزء از قرآن کریم را حفظ کرده بودند، از چند مرکز قرآنی در سطح شهر تهران(مراکزصهبای ملکوت، دارالتحفیظ قرآن کریم، مکتب القرآن کریم و موسسه محمدامین) به طور تصادفی انتخاب شدند. همچنین، 88 نفر از مادرانی که در کلاس های حفظ قرآن شرکت نکرده بودند، به طور غیرتصادفی و با رعایت ملاحظاتی(شباهت نسبی از لحاظ متغیرهای جمعیت شناختی و سطح اقتصادی- اجتماعی) انتخاب و از نظر سبک زندگی مورد مطالعه قرار گرفتند. در این پژوهش برای جمع آوری اطلاعات از دو پرسش نامه 1- پرسشنامه سبک زندگی لعلی، عابدی و کجباف(1391) و 2- پرسش نامه محقق ساخته سبک زندگی اسلامی، استفاده شد. روایی محتوایی این ابزارها با استفاده از قضاوت متخصصان مورد تایید قرار گرفت و پایایی آن ها با استفاده از ضریب آلفای کرونباخ مطلوب ارزیابی شد. برای تحلیل داده های جمع آوری شده از آزمون تی(t) برای مقایسه میانگین های دو گروه مستقل استفاده شد. نتیجه تحلیل داده ها نشان داد که دو گروه از لحاظ برخی از مؤلفه های مختلف سبک زندگی متفاوت هستند. حافظان قرآن در خرده مقیاس های سلامت معنوی، سلامت اجتماعی، سبک زندگی اسلامی و اجتناب از دارو، مواد مخدر و الکل، نمره بالاتری کسب کرده اند. به این ترتیب می توان نتیجه گرفت که شرکت در کلاس های قرائت و حفظ قرآن کریم می تواند در اصلاح سبک زندگی مؤثر باشد
۲۶۷۵۶.

آسیب شناسی سیستمی آموزش و پرورش و ارائه راه کارها(مقاله پژوهشی حوزه)

حوزه‌های تخصصی:
تعداد بازدید : ۲۳۸۲ تعداد دانلود : ۱۰۳۵
مسئله اصلی در این مقاله، فهم عملکرد موجود و مطلوب نظام آموزش و پرورش به مثابه سیستمی اثرگذار در تعامل با دیگر سیستم هاست. در این جستار، با استفاده از نظریه «سیستم ها» و با تأکید بر میزان تناسب ورودی و خروجی این سیستم و بازتاب های مستقیم و غیرمستقیم آن بر دیگر سیستم های پیرامونی، درصدد پاسخ گویی به این سؤال هستیم که آموزش و پرورش چه آسیب های درون سیستمی و برون سیستمی ایجاد می کند و راه کار برون رفت از آنها چیست؟ تعلیم دانش غالباً ناپایدار و ناکارآمد و با صبغه غالب علوم طبیعی و به تبع آن، طولانی بودن دوره آموزش و پرورش، از آسیب های عمده این سیستم محسوب می شود. حل بنیادین مشکلاتی همچون بیکاری، بزه کاری، انحرافات جنسی، بدحجابی، کم کاری، کاهش زادوولد و نیازهایی مانند تشکیل بهنگام خانواده، نیازمند اصلاح سیستم کنونی آموزش و پرورش به مثابه کارخانه انسان سازی است. یکی از مهم ترین راه حل های برون رفت از وضع موجود، تغییر در محتوای آموزشی است که در نتیجه آن، سنوات تحصیل به قریب شش سال تقلیل یافته، رضایت عمومی از نظام سیاسی و درآمد ناخالص ملی افزایش چشمگیر خواهد داشت.
۲۶۷۵۷.

تبیین جایگاه پادشاهان صفوی در غیبت امام (عج) از منظر مورخان

حوزه‌های تخصصی:
تعداد بازدید : ۸۷۰ تعداد دانلود : ۵۲۳
تشکیل حکومت صفویه با ویژگی هایی همراه بود که مهم ترین آن رسمیت یافتن مذهب تشیع است. حکومت ها برای پذیرش در میان مردم جامعه نیاز به آن دارند تا برای حکومت کردن خود حقی قایل شوند. در جامعه ی ایران مشروعیت حکومت، مهم ترین عامل برای حق حکومت کردن محسوب می شود. تکیه ی صفویان بر مذهب تشیع نیاز به پذیرش حکومت آنان بر پایه ی تعالیم و معارف مذهب تشیع داشت. شیعیان به ولایت ائمه در همه ی زمان ها- زمان حضور و غیبت، حکومت علنی و غیر علنی- اعتقاد دارند. اینکه پذیرش صفویان در زمان غیبت توسط شیعیان چگونه صورت گرفت و جایگاه پادشاهان صفوی چگونه و بر چه اساسی تبیین گردید؟ موضوعی است که پژوهش حاضر درصدد بررسی و درک گفتمان های مسلط در دوره های مختلف آن در رابطه با تعامل قدرت پادشاهان و علمای دین از طریق تاریخ نوشته های دوره ی صفوی است. زیرا مورخان به عنوان افراد جامعه - البته از گروه فرهیختگان و اغلب دیوانیان و گاه علما و ادبا- متأثر از حیات فکری جامعه ی خود هستند و تحت شرایط خاص زیستگاه خود، به لحاظ زمانی و مکانی و مصلحت های موجود، تاریخ خود را می نگارند. دستاوردهای مقاله نشان داد که گفتمان های ایجادشده با فراز و فرود قدرت سیاسی و مذهبی در دوره های مختلف، گاه در تأثیرپذیری از اندیشه ی موعودگرایانه، پادشاهان صفوی را به عنوان نایبان امام زمان (ع) و گاه بر پایه ی اندیشه ی تقدیرگرایانه، آنان را برگزیده ی خداوند دانسته و حکومتشان به مقتضای شرایط سیاسی و مذهبی به عنوان لطف الهی، حکومت ابدمدت و ابدپیوند با ولایت امام زمان(ع) خوانده شده است
۲۶۷۵۸.

نسخه خوانی 5

نویسنده:
حوزه‌های تخصصی:
تعداد بازدید : ۵۶۷ تعداد دانلود : ۴۵۷
نویسنده در نوشتار حاضر در قالب پنجمین سلسله انتشارات با عنوان نسخه خوانی، متن چند نسخه را مورد مداقه قرار داده است. این متون بدین شر حاند: - سیطره فلسفه طبیعی یونانی بر اخلاق عملی مسلمانی - نگارش روزنامه نجومی برای طغرل: مختصر نامه - حکایتی از کاشف الغطاء درباره گدای سامرا و عاقبت وی - ماده تاریخی از یک بنا - دو متن درباره تعمیر گنبد امام رضا ؟ع؟ پس از زلزله سال 1084 در خراسان - قصیده ای در ستایش شاه سلیمان صفوی - یادداشتی متفاوت درباره امامان از یک متن صوفیانه قرن هشتم نهم هجری - دیدن خواب تابوت به چه معناست؟ - حاج محمد کریم خان رهبر شیخیه، تلگراف و هیپنوتیزم - گزارش حمله یوسف خان کاشغری به استرآباد، زلزله شدید در بابل و چند حکایت دیگر در سال 1222 - یافت شدن یک کاشی در رود آور همدان در سال 1292 - ماده تاریخ کشف امریکا
۲۶۷۵۹.

نسخه خوانی 6

نویسنده:
حوزه‌های تخصصی:
تعداد بازدید : ۵۲۸ تعداد دانلود : ۸۵۰
نویسنده در نوشتار حاضر در قالب ششمین سلسله انتشارات با عنوان نسخه خوانی، متن چند نسخه را مورد مداقه قرار داده است. این متون بدین شر حاند: - روایت یک خواب شگفت درباره حضور امام باقر ع در کربلا - جنگ و جدال متشرعه و شیخیه در سال 1315 ق. در همدان - فاجعه سقوط اصفهان در سال 1135 هجری - گزارش ملاقات ناصرالدین شاه با علمای منطقه سرابی در اطراف نهاوند در سال 1309 ق - آشپز شاه عباس، رفتن به حج و هوس نگارش رساله ای در طباخی - فرمان شاه عباس بر ضد اسراف و پوشیدن لباس حریر و طلاباف - تحلیلی متفاوت از علت شکست ایران در جنگ های ایران و روسیه - چند ماده تاریخ باارزش از دوره صفوی - ادب تعزیه نامه نوشتن - فرمان تعیین شیخ الاسلام بحرین در دوره صفوی - کشف سکه های صدر اسام در کاشان زمان شاه عباس، انتقال به اصفهان و خواندن آ نها.
۲۶۷۶۰.

بازخوانی ماهیت نزول دفعی در تفسیر قرآن به قرآن(مقاله علمی وزارت علوم)

نویسنده:
حوزه‌های تخصصی:
تعداد بازدید : ۴۸۰ تعداد دانلود : ۴۵۵
کیفیت نزول و تجلی قرآن کریم از مسائل مهم در علوم قرآنی است که از همان ابتدای نزول قرآن مورد پرسش مسلمانان و یهودیان قرار گرفته است و آیاتی از قرآن کریم نیز برای تبیین این مسئله نازل شده است. اما در این بین، ظاهر برخی از آیات قرآن اثبات کننده نوعی نزول دفعی برای آن در شب قدر است که این مسئله با برخی آیات دیگر و نیز مسلمات تاریخی سازگاری ندارد. مفسران در طول تاریخ برای جمع بین این دو مجموعه آیات، آرای متعدد و مختلفی ارائه کرده اند که برخی با نفی نزول دفعی و تأویل آیات آن و برخی با اثبات و تبیین ماهیتی از نزول دفعی در پرتو روایات تلاش داشته اند محملی برای این آیات بیابند که با مجموعه آیات هماهنگ باشد. نگارنده در این مقاله تلاش دارد تا با بیان تفصیلی نظرات گذشتگان و نقد آن ها، با بهره گیری از آیات قرآن ، تبیینی از ماهیت نزول دفعی قرآن ارائه دهد و شبهات مطرح در این زمینه را نیز پاسخگو باشد.

پالایش نتایج جستجو

تعداد نتایج در یک صفحه:

درجه علمی

مجله

سال

زبان