ترتیب بر اساس: جدیدترینمرتبط‌ترین
فیلترهای جستجو: فیلتری انتخاب نشده است.
نمایش ۲۲۱٬۷۸۱ تا ۲۲۱٬۸۰۰ مورد از کل ۵۵۴٬۵۳۶ مورد.
۲۲۱۷۸۲.

سائبر اسپیس میں موجودہ تعلیمی مواقع(مقاله علمی وزارت علوم)

حوزه‌های تخصصی:
تعداد بازدید : ۶۶۴ تعداد دانلود : ۴۲۷
سائبر اسپیس معلومات کا وہ ذخیرہ ہے جس میں ہر طرح کی کتب ، مقالہ جات اور تحقیقات نہ صرف محفوظ کی گئی ہیں بلکہ ہر گزرتے دن ان معلومات میں اضافہ کیا جا رہا ہے ۔ تعلیمی، سماجی اور اقتصادی خوشحالی میں سائبر اسپیس اپنا کردار ادا کرنے میں ایک حقیقت بن چکی ہے ۔ سائبر اسپیس نے ہر شعبہ زندگی میں بنی نوع انسان کے لیے ترقی اور علم کی نئی جہتیں روشناس کروائی ہیں ۔ ہر دور میں علم کا حصول انسان کا ایک اہم ترین مقصد رہا ہے ۔ علم کی پیا س بجھانے کے لیے طلباء دور دراز کا سفر کرتے چلے آئے ہیں ۔علم کی پیاس بجھانے میں وقت اور حالات ہمیشہ آڑے آتے رہے تاہم اس تشنگی کو بجھانے کے لیے سائبر اسپیس ایک اہم کردار ادا کر سکتی ہے ۔ مذاہب کے مابین مکالمہ ہو یا مختلف مذاہب کا تقابلی جائزہ ، سائبر اسپیس کی مدد سے تبصرہ یا تجزیہ کرنا بے حد آسان بن چکا ہے ۔ اب طالب علم کے لیے عالمی سطح کے علم کا حصول ناممکن نہیں رہا ۔ دین اور دینی معلومات کے فروغ کے لیے سائبر اسپیس اپنی ایک منفرد حیثیت رکھتی ہے ۔ وہ وقت اب ماضی کا حصہ بن چکا ہے جب ہاتھ سے خطوط لکھ کر اپنا مدعا بیان کیا جاتا تھا ۔ کسی بھی مضمون کی معلومات کے لائبریریوں کو چھان مارا جاتا تھا ۔سائبر اسپیس نے ہر طرح کی معلومات کو بس ایک کلک کی دوری پر رکھ چھوڑا ہے ۔ ادہر مطلوبہ معلومات کے مضمون کو سرچ انجن پر لکھیے ادہر دنیا جہان کے علم کا خزانہ آپ کے کمپیوٹر کی اسکرین پر حاظر ہو جائے گا ۔ اس تمام معلومات میں سے اپنی مطلوبہ معلومات کو چن کر اپنی تحقیق کو جدید ترین بنایا جا سکتا ہے ۔ سائبرا سپیس کا دینی اور دنیاوی علم کے حصول کے لیے نہ صرف اہم کردار ہے بلکہ سماجی ، تعلیمی ، علاقائی ، اقتصادی، تہذیبی ، نفسیاتی ترقی میں بھی سائبر اسپیس کے کردار سے انکار ممکن نہیں۔سائبر اسپیس نے طالب علموں، تحقیق کاروں اور اساتذہ کے لیے بے شمار معلومات کا ذخیرہ پیدا کر دیا ہے ۔یہ معلومات جہانِ عالم کی ایک شاخ سے تعلق رکھتی ہیں چاہے وہ آرٹ یو ، فنون لطیفہ ہوں ، آرکیٹیکچر ہو ، سیاست ہو، مذہب ہو یا ادب ۔ گویاسائبر اسپیس کی وجہ سے ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والوں کے لیے مطلوبہ معلومات بیش بہا تعداد میں موجود ہے ۔ دنیا کے ایسے دور دراز علاقے جہاں طلباء کے لیے غربت کے باعث سفر کرنا ممکن نہیں ان کے سائبر اسپیس کسی نعمت سے کم نہیں کیونکہ یہ سائبر اسپیس ہی ہے جو ایسے علاقوں میں معلومات باہم پہنچانے کا واحد او ر مؤثر ذریعہ ہے ۔ صرف یہی نہیں ۔یہ سائبر اسپیس کا ہی کمال ہے کہ علم کا وہ ذخیرہ جس کو محفوظ کرنے کے لیے کئی کئی ایکڑ پر محیط لائبریریوں کی ضرورت تھی آج اس کے لیے نہ تو بڑی جگہ کی ضرورت ہے اور نہ ہی ان گنت کتب کی ۔ یہاں تک کہ مطلوبہ مضمون کے مطابق معلومات کی باہم اور جلد فراہمی چند سیکنڈ میں ممکن بنا دی گئی ہے ۔ آج سائبر اسپیس کی وجہ سے انسان نے نہ صرف روئے زمین پر بلکہ سمندر اور خلاؤں کی تسخیر ممکن بنا لی ہے۔ ائیرو سپیس ٹیکنالوجی کی بدولت آج کا انسان دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک باآسانی پہنچ جاتا ہے۔ انسان نے وقت کے دھارے کے ساتھ ساتھ چلنے کی وجہ سے کم از کم وقت میں زیادہ سے زیادہ مقاصد کے حصول کو ممکن بنا دیا ہے ۔ کمیونیکشن کے میدان میں انسان نے فضا ء میں موجود لہروں پہ بھی کمال کی قدرت حاصل کی ہے ۔ دنیا کے کسی بھی کونے میں کوئی واقعہ رونما ہو جائے تو کمیونیکیشن سسٹم کے ذریعہ دنیا کے کسی بھی ملک میں چند لمحوں میں اس خبر کو پہنچا دیا جاتا ہے ۔ سائبر اسپیس کی بدولت دنیا سمٹ چکی ہے اور ہر طرح کی خبروں کی ترسیل منٹوں تو دور کی بات سیکنڈ میں کر دی جاتی ہے ۔ ہر ملک کے باشندے دوسرے ملک کے بارے میں معلومات رکھتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف تہذیبیں آپس میں مدغم ہوتی چلی جا رہی ہیں ۔ سائبر اسپیس نے انسان کی ترقی کی راہیں کھول دی ہیں ۔ سائبر اسپیس کی بدولت انسان نے نہ صرف اپنی علمی کمی کو پورا کیا ، انسانیت کا درس حاصل کیا بلکہ اقوامِ عالم کی تہذیبی اور اقتصادی ترقی بھی حاصل کی ۔ الغرض ہر شعبہ زندگی میں سائبر اسپیس اپنا ایک اہم کردار ادا کر رہی ہے ۔
۲۲۱۷۸۳.

سائبر اسپیس پر مکالمہ اور تقریب بین المذاہب کے لیے موجود مواقع کا تحقیقی جائزہ(مقاله علمی وزارت علوم)

نویسنده:
حوزه‌های تخصصی:
تعداد بازدید : ۵۵۶ تعداد دانلود : ۳۶۱
مختلف مسالک کے لوگوں کو تفرقے سے دور رہ کر ایک دوسرے کے ساتھ اتحاد و اتفاق کے ساتھ رہنے کا حکم نہ صرف قرآنی دستور ہے بلکہ یہ معاشرے میں اجتماعی زندگی گزارنے والے انسانوں کی پر امن بقائے حیات کے لیے ضروری بھی ہے لہذا تقریب بین المذاہب کی ضرورت قرآن و سنت کے ساتھ ساتھ حکم عقل کی بنیاد پر بھی مسلّم ہے۔ ایک اللہ اور ایک نبیؐ کے معتقد مختلف اسلامی مسالک کے اعتقادات اور تعلیمات میں بہت سے مشترکات کے باوجود ایک دوسرے سے دوری اور تفرقہ کی بنیادی وجوہات میں سے اہم ترین وجہ ایک دوسرے کے عقائد کے بارے میں عدم آگاہی اور اس بناء پر ایک دوسرے کے بارے میں پیدا ہونے والی بدگمانی ہے۔ لہذا اس دوری کو قربت اور بدگمانی کو حسنِ ظن میں بدلنے کا بہترین طریقہ ایک دوسرے کے عقائد اور تعلیمات کے بارے میں صحیح ذرائع سے آگاہ ہونا ہے۔ جس کے لیے عصر حاضر میں دیگر ذرائع اور طریقوں کے علاوہ ایک اہم اور مؤثر ترین ذریعہ انٹرنیٹ (سائبر اسپیس) ہے۔ انٹرنیٹ کی آمد کے بعد دنیا ایک گلوبل ویلیج میں تبدیل ہو چکی ہے اس سے نہ صرف بہت ساری سہولیات انسانی زندگی میں پیدا ہو چکی ہیں بلکہ اس کے ذریعے لوگوں اور اقوام کو ایک دوسرے کے افکار اور آراء سے آشنائی کے مواقع بھی پیدا ہو چکے ہیں۔ اس ضمن میں مختلف اسلامی مسالک کے دینی ادارے خصوصاً حوزات علمیہ اور ذمہ دار علمی شخصیات انٹرنیٹ پر اپنے اپنے مسالک کے عقائد اور تعلیمات معقول انداز میں پیش کر سکتے ہیں جن سے آگاہی کے بعد مشترکات کی بناء پر لوگوں کے قلوب ایک دوسرے کے قریب ہو سکتے ہیں۔ چونکہ عام حالات میں مختلف مسالک کے علماء کا براہ راست ایک دوسرے سے ملاقات ہمیشہ ممکن نہیں ہوتا لیکن انٹرنیٹ کے ذریعے بہ آسانی ان کے درمیان نہ صرف رابطہ ممکن ہوتا ہے بلکہ دن کے چوبیس گھنٹے ایک دوسرے سے با خبر رہ سکتے ہیں۔ تخریب کارانہ ذہنیت رکھنے والے لوگ آج جہاں انٹرنیٹ کا غلط استعمال کرتے ہوئے اسلامی مسالک کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنے، اختلافات ایجاد کرنے اور دشمنیاں بھڑکانے کے لیے اس سہولت سے استفادہ کر رہے ہیں، وہاں مسلمانوں کے ہمدرد نیک اور ذمہ دار لوگوں کو چاہیے کہ وہ اس وسیلے کو مکالمہ اور تقریب بین المذاہب کے لیے استعمال کریں تاکہ اسلامی مسالک کے درمیان تفرقہ، اختلاف اور نفرتوں کے بجائے اتحاد، قربت اور محبت بڑھ سکے۔ آج مختلف مسالک کے بہت سے حوزہ ہائے علمیہ اپنے ہاں پڑھائے جانے والے مکمل نصاب کو اپنے مدارس کے ویب سائٹس پر اپلوڈ کرتے ہیں جس سے گزشتہ زمانوں میں ایک دوسرے کے بارے میں پھیلی ہوئی غلط فہمیوں کے دور ہونے میں مدد ملتی ہیں۔جو ایک حوصلہ افزاء امر ہے۔ اس ضمن میں انٹرنیٹ(فضای مجازی) پر مکالمہ بین المذاہب اور تقریب بین مذاہب کے درج ذیل اور دیگر مواقع کا تفصیل کے ساتھ تحقیقی جائزہ پیش کیا جائے گا۔ مختلف مسالک کے علمائے کرام کے انٹرنیٹ پر ایک دوسرے سے روابط اور مکالمے کو فروغ دینا۔ فیس بک پر مختلف مسالک کے علما ء کو دوستو ں کی فہرست میں شامل کرنا نیز ان کے صفحات کے ذریعے ان کے صحیح آراء و نظریات سے آگاہ ہونا۔ واٹس ایپ، ٹیلی گرام، انسٹاگرام وغیرہ پر مختلف مسالک کے علماء اور ذمہ دار علمی شخصیات کے گروپس تشکیل دینا تاکہ مکالمہ بین المذاہب کی راہ ہموار ہو سکے۔ مختلف مسالک کے نامور اور ذمہ دار علمائے کرام کے ٹیلی گرام اور دیگر ایپس پر موجود چینلز اور صفحات کو فالو کرنا تاکہ ان علماء کے صحیح نظریات اور ان کے مسلک کی صحیح تعلیمات سے آگاہی حاصل ہو جائے۔ 1- مدارس کے ویب سائٹس کو مزید فعال بنانا۔ 2- حوزات علمیہ کا اپنی لائبریریوں کو انٹرنیٹ کے ساتھ متصل کرنا۔ 3- علمی مقالات کو انٹرنیٹ پر عمومی دسترس دینا۔ 4- مختلف مسالک کے حوزات علمیہ کے دروس اور لیکچرز کو انٹرنیٹ پر اپلوڈ کرنا۔ 5- مختلف مسالک کے حوزات علمیہ کا ایک دوسرے کے ساتھ مستقل آنلائن ارتباط اور علمی مطالب، مسائل اور افکار کا تبادلہ۔ 6- آنلائن کلاسز اور دروس کا انعقاد۔
۲۲۱۷۸۴.

Effect of Profitability Indices on the Capital Structure of Listed Companies in Tehran Stock Exchange(مقاله علمی وزارت علوم)

حوزه‌های تخصصی:
تعداد بازدید : ۹۱۷ تعداد دانلود : ۴۶۷
The main objective of this research is the index of profitability on the capital structure of listed companies on the Stock Exchange of Tehran. Statistical population consisted of all above companies that 138 companies were selected in time zone of 2011-2014 after screening method (systematic elimination). The research method is descriptive and correlation and study variable is profitability index that was tested by statistical techniques. Research findings indicate that there is a significant inverse relationship between indicators of profitability and capital structure. Also, there is a significant inverse relationship between short-term and long-term profitability and debts
۲۲۱۷۸۵.

طراحی مدل مدیریت منابع انسانی با رویکرد اجتماعی فنی و بوم شناختی برای بخش دولتی ایران(مقاله علمی وزارت علوم)

حوزه‌های تخصصی:
تعداد بازدید : ۸۹۴ تعداد دانلود : ۵۳۹
عملکرد پایین منابع انسانی، به خصوص در بخش دولتی ایران، همواره یکی از چالش های اصلی مدیران این بخش بوده است. در این پژوهش با استفاده از رویکرد اجتماعی فنی و اضافه کردن شاخه بوم شناختی به آن، سعی شده است تا مدلی برای سیستم مدیریت منابع انسانی در بخش دولتی با رویکرد بوم شناختانه طراحی شود. داشته های منابع انسانی سازمان، سرمایه انسانی؛ داشته های اجتماعی سازمان، سرمایه اجتماعی و داشته های بوم شناختی سازمان، سرمایه بوم شناختی سازمان در نظر گرفته شده است. طبق نظریه اجتماعی فنی، استفاده بیشینه از همه سرمایه ها امکان پذیر نیست و باید به ترکیب بهینه ای از آن ها دست یافت تا این ترکیب بتواند به حداکثر سازی عملکرد نیروی انسانی کمک کند. برای این منظور از گروه خبره ای که از طریق تکنیک گلوله برفی انتخاب شده بودند، خواسته شد تا اهمیت شاخص های هر یک از سرمایه ها را در وظایف منابع انسانی مشخص کنند. داده های به دست آمده از طریق روش برنامه ریزی خطی تکنیک صفر و یک، برای دستیابی به مدل بهینه، تحلیل شد. در پایان نتایج با قانون خدمات کشوری تطبیق داده شده و پیشنهاد هایی ارائه شده است.
۲۲۱۷۸۶.

تحلیلی بر توزیع فضایی کاربری فضای سبز شهر اسلام آباد غرب(مقاله علمی وزارت علوم)

حوزه‌های تخصصی:
تعداد بازدید : ۷۲۰ تعداد دانلود : ۴۳۸
پژوهش حاضر از لحاظ هدف، کاربردی و از لحاظ روش انجام کار، توصیفی - تحلیلی است. هدف این پژوهش، تحلیلی بر توزیع فضایی کاربری فضای سبز شهر اسلام آباد غرب و جامعه آماری آن شامل 25 نفر از متخصصان و کارشناسان مربوط به موضوع مدنظر است. ابزار اندازه گیری داده ها، پرسش نامه ای است که براساس مبانی نظری و پیشینه پژوهش طراحی شد و برای تجزیه و تحلیل داده های پژوهش، روش تحلیل سلسله مراتبی(AHP) به کار رفت. برای ارزیابی توزیع فضایی فضاهای سبز بر 10 شاخص تأکید شد که برای سنجش توزیع فضایی اهمیت بیشتری داشتند. نتایج نشان داد براساس هرکدام از شاخص ها، توزیع فضایی مناسبی در زمینه فضاهای سبز با هر نوع شاخص (ازجمله فاصله از مسیل، فاصله از واحد مسکونی، فاصله از مراکز درمانی و...) وجود دارد؛ همچنین با عمل همپوشانی شاخص های 10گانه نیز چنین نتیجه ای به دست آمد؛ به گونه ای که محدوده های مرکز و متمایل به مرکز در تمامی جهات شهر در نقشه نهایی، بهترین محدوده ها برای ایجاد و توسعه فضاهای سبز شناخته شدند که تقریباً بیشتر فضاهای سبز موجود نیز در این محدوده ها قرار گرفته اند؛ بنابراین فضاهای سبز در شهر اسلام آباد غرب از نظر توزیع فضایی، مطلوب ارزیابی می شوند. نتایج این مطالعه به برنامه ریزان شهری برای توزیع فضایی کاربری فضای سبز در توسعه نواحی شهری کمک می کند.
۲۲۱۷۸۷.

بررسی چندوچون مصدرهای عامیانه فارسی در فرهنگ معین پریسا شکوهی

نویسنده:
حوزه‌های تخصصی:
تعداد بازدید : ۷۳۹ تعداد دانلود : ۵۷۲
محمد معین از زحمت کش ترین و متعهدترین ادیبان معاصر ما به شمار می آید که در فرهنگ شش جلدی خود با رعایت اصول علمی و پژوهشی و با شیوه ای متفاوت به نسبت همه فرهنگ های پیش از خود، بخش قابل توجهی از واژگان و اصطلاحات و اعلام را ثبت و ضبط کرد. این مقاله در پی بحث درباره چندوچون مصدرها (افعال) عامیانه ای است که درفرهنگ معین ثبت شده اند. در همه پژوهش هایی که به حوزه ادبیات و زبان عامیانه وابسته است مهم ترین مانع، ملاک تشخیص «عامیانه بودن» است. در این مقاله، نگارندگان ملاک را تشخیص خود مرحوم معین که بی تردید از صاحب نظرترین افراد در این شاخه بود، گذاشتند؛ به عبارتی دیگر، هر مصدری که مرحوم معین در برابر آن نشانه کوتاه شده «عم» را گذاشته بود، استخراج کردیم و در مرحله بعد براساس منابع دستوری آن ها را به هشت دسته تقسیم نمودیم. درپایان، مصادیق هر دسته در قالب جدول هایی ارائه شده اند.
۲۲۱۷۸۸.

عوامل مؤثر بر حاشیه بازاریابی گل رز گلخانه ای در استان کهگیلویه و بویراحمد(مقاله علمی وزارت علوم)

حوزه‌های تخصصی:
تعداد بازدید : ۱۳۷۶ تعداد دانلود : ۷۵۹
علی رغم وجود پتانسیل و مزیت های موجود در تولید گل و گیاهان زینتی در کشور، همواره چالش ها و نارسایی هایی در ساختار بازار و بازاریابی این محصولات مشاهده می شود. در این مطالعه عوامل مؤثر بر حاش یه بازاریابی گل رز گلخانه ای در استان کهگیلویه و بویراحمد به منظور تدوین رهیافتی برای حل مشکلات و توسعه بازار این محصول بررسی شد. مطابق نتایج، حاشیه بازاریابی محصول گل رز بالا و غیرمتناسب است و مسیر بازاریابی گل رز در استان کارا و شفاف نیست. نتایج تخمین توابع حاشیه بازاریابی با استفاده از الگوی مارک – آپ نشان داد که قیمت، هزینه های بازاریابی و هزینه حمل ونقل با حاشیه بازاریابی درسطح خرده فروشی رابطه مستقیم دارد. همچنین نتایج محاسبه کارایی بازاریابی گل رز با استفاده از روش شفرد نشان داد که به ازای 1 ریال خدمات بازاریابی 77/3 واحد ارزش افزوده ایجاد می شود. نبود اطلاعات دقیق از شرایط بازار، سیستم حمل و نقل نامناسب و دوری بازار فروش از محل تولید و نیز کمبود تسهیلات حمایتی از مهم ترین مشکلات و چالش های تولیدکنندگان بودند. طبقه بندی JEL: D61، D44
۲۲۱۷۸۹.

تأثیر هزینه مبادله بر توسعه مالی در کشورهای منتخب اوپک(مقاله علمی وزارت علوم)

حوزه‌های تخصصی:
تعداد بازدید : ۹۵۷ تعداد دانلود : ۷۱۹
عملکرد بهینه نظام اقتصادی در هر جامعه   ای وابسته به وجود دو بخش حقیقی و مالی کارا، قدرتمند و مکمل است. فعالیّت این دو بخش در کنار یکدیگر، شرط لازم و کافی برای بقای نظام اقتصادی به شمار می رود. این مطالعه، به دنبال تبیین اثر هزینه مبادله بر توسعه بخش مالی با استفاده از داده های آماری اعضای اوپک برای دوره زمانی 2012- 1990 می باشد.                 در تحقیق حاضر، اثر هزینه مبادله بر توسعه مالی در قالب یک مدل اقتصادسنجی به پیروی از بالتاجی و همکاران (2007)، برآورد می شود. در این راستا، از شاخص کارآیی بخش بانکی( اعتبارات بخش خصوصی [1]) برای بررسی توسعه بخش بانکی و از دو شاخص نسبت فعالیت بازار سهام [2]( به درصد) و نسبت ارزش معاملات سهام به GDP [3] (به درصد) برای بررسی توسعه بخش غیر بانکی استفاده شده است. متغیر های توضیحی در این تحقیق، نیز عبارتند از: شاخص هزینه مبادله، اندازه دولت، سطح درآمد سرانه و درجه باز بودن اقتصاد.                 نتایج تخمین مدل با داده   های ترکیبی، حاکی از آن است که اثر هزینه مبادله بر توسعه مالی معنادار است و با کاهش هزینه مبادله، توسعه مالی افزایش می یابد. در مورد اثر حمایت از حقوق مالکیت بر توسعه مالی، نشان داده شد که هرچه این شاخص بالاتر باشد، شاخص توسعه مالی بالاتر رفته و توسعه مالی را به طور معنی داری ارتقاء می بخشد. همچنین، درآمد سرانه، رابطه مثبت و اندازه دولت، رابطه منفی با توسعه مالی دارد.   [1]. Private Credit [2]. Turnover Ratio (TOR) [3]. Total Value (of shares) Traded (TVT)/GDP
۲۲۱۷۹۰.

مصادیق «پیرنگ» فرمالیستی در داستان های کوتاه فارسی(مقاله علمی وزارت علوم)

حوزه‌های تخصصی:
  1. حوزه‌های تخصصی ادبیات انواع ادبی ادبیات روایی و داستانی گونه های معاصر داستان و داستان کوتاه
  2. حوزه‌های تخصصی ادبیات علوم ادبی رویکردهای نقد ادبی نقد فرمالیستی (صورتگرا)
تعداد بازدید : ۲۷۳۲ تعداد دانلود : ۲۱۸۵
بر مبنای تعاریف نوینی که در بوطیقای فرمالیسم، از دو مقولة «داستان» و «پیرنگ» ارائه گردیده است، «داستان» یا همان زنجیرة رخدادها در توالی زمانی، به منزلة مادّة خام و سازمایة روایت شناخته شده است و «پیرنگ» برخلاف پندار منتقدان پیشافرمالیسم، نه به ساختمان منطقی و علّی اثر روایی، بلکه به تمام تمهیدات زیبایی شناسانه و آشنایی زدایانه ای اطلاق می گردد که برای پیکربندی هنری آن مادّة خام به کار بسته می شود. این تمهیدات در سه سطح «زبان، درونمایه و صناعات» متجلّی گردیده است و پیرنگ هنری روایت داستانی را برمی سازند. نویسندگان داستان کوتاه معاصر فارسی با عنایت به جریانات نوگرایانة ادبی، به ویژه آرای فرمالیستی و به مدد بهره گیری مبتکرانه از امکانات زبانی، صناعتی و درونمایگانی، گونه ای شکل شکنی خلاّقانه را در روایتگری داستان هایشان رقم زده اند، به گونه ای که داستان را از بافتی متکّی بر حادثه پردازی و پیرنگ سازی در مفهوم سنّتی و پیشافرمالیستی خود خارج ساخته و تلاش برای برجسته سازی فرم داستان از رهگذر کشف و کاربست تکنیک های روایی جدید را جایگزین آن کرده اند و بدین سان، آشنایی زدایی و پیرنگ هنری مطمح نظر فرمالیست ها را محقّق ساخته اند. نظر به اینکه مصادیق پیرنگ سازی هنری در سطح صناعات داستانی از گستردگی و تنوّع بیشتری برخوردار است، در این جستار، بر آن بوده ایم تا به واکاوی و دسته بندی مصادیق و جلوه های گوناگون آشنایی زدایی و پیرنگ سازی در این سطح از داستان های کوتاه شکل گرای معاصر بپردازیم و بدین وسیله، از اصلی ترین عوامل رازناکی و غریب نمایی جهان این داستان ها پرده برداریم.
۲۲۱۷۹۱.

شناسایی و اولویت بندی عوامل مؤثر بر تمایل به تقاضای پیش خرید مسکن (مطالعه موردی: خریداران مسکن در حال ساخت شهر ایلام)(مقاله علمی وزارت علوم)

حوزه‌های تخصصی:
تعداد بازدید : ۹۷۱ تعداد دانلود : ۷۵۱
پیش خرید، روشی برای تهیه مسکن است که با انگیزه مصرفی- سرمایه ای در شرایط عدم اطمینان، با ریسک بالا و سرمایه گذاری مالی مستقیم، مورد استفاده قرار می گیرد . هدف این مطالعه، شناسایی و اولویت بندی عوامل مؤثر بر تمایل به تقاضای پیش خرید مسکن شهر ایلام و ارائه مدل مفهومی می باشد. این تحقیق از نظر هدف، کاربردی و از لحاظ روش تحقیق،آمیخته اکتشافی (کیفی- کمی) می باشد . روش گردآوری داده هابرای ادبیات تحقیق، کتابخانه ای و برای داده های اصلی، تحقیق میدانی است. ابزار گردآوری داده ها، مصاحبه و پرسشنامه محقق ساخته است که رواییآن توسط خبرگان این حوزه و تحلیل عاملی تأییدی وپایایی آن از طریق آلفای کرونباخ تأیید شده است. جامعه آماری برای مرحله کیفی، 40نفر از خبرگان (کارشناسان راه و شهرسازی، بنیاد مسکن، بانک مسکن و مشاوران املاک) شهر ایلام است که با استفاده از روش نمونه گیری هدفمند، انتخاب شده اند. جامعه آماری مرحله کمّی، خریداران مسکن در حال ساخت است که براساس جدول مورگان، حداقل حجم نمونه،240 نفر تعیین گردید که با روش نمونه گیری نمونه های در دسترس انتخاب شده است. برای تجزیه و تحلیل آماری، از نرم افزارهایSpss16 وLisrel 8.5 استفاده شده است. نتایج تحقیق نشان دادند که عوامل اقتصادی، مالی، مالی- رفتاری، انگیزشی، سیاسی و اجتماعی، بر پیش خرید مسکن تأثیر دارند و عوامل اقتصادی (فقر، بهره وری اقتصادی و بحران اقتصادی) با ضریب 57/4، در اولویت و عوامل سیاسی (سیاست اقتصادی) با ضریب 66/2، در رتبه آخر قرار دارد.
۲۲۱۷۹۲.

مدل سازی پراکندگی خشکسالی های ناشی از تغییر اقلیم در ایران با به کارگیری سیستم دینامیک(مقاله علمی وزارت علوم)

حوزه‌های تخصصی:
تعداد بازدید : ۱۱۹۳ تعداد دانلود : ۶۵۳
تغییرات خشکسالی برای مدیریت بهینة بهره برداری از منابع آب به خوبی محسوس است. به همین دلیل، از گذشته های دور تحقیقات بسیار وسیعی دربارة مدل سازی خشکسالی در دنیا و ایران انجام گرفته و با به کارگیری آن ها طرح های آبی و هیدرولیکی متعددی انجام گرفته است. یکی از اهداف مدل سازی سیستم های پویا بررسی سیاست های بالقوة مختلف برای بهبود عملکرد سیستم است. مدل سازی شاخص (شاخص بارش استانداردشده) به عنوان شاخص وضعیت خشکسالی در ایستگاه های کشور با به کارگیری مدل شبکة عصبی شعاعی برای هر ایستگاه انجام گرفته است. متغیرهای مستقل شبکة عصبی، رطوبت نسبی، دما و کمبود اشیا هستند که با توجه به اثر آن ها روی بارش انتخاب شده اند. متغیر وابسته، شاخص SPI است. در کل دورة 42ساله با محاسبة SPI 12 ماهه، 348 نمرة استاندارد، و با محاسبة SPI 24ماهه، 336، نمرة استاندارد برای هر ایستگاه به دست آمد. در همة ایستگاه ها، مقادیر (تبخیر و تعرق گیاه مرجع) از ماه ژانویه تا ژوئیه افزایش، سپس، تا ماه دسامبر کاهش یافت و در همة ایستگاه ها در ماه ژولای به حداکثر مقدار خود رسید. بیشترین مقادیر ET oمتوسط ماهانه در ایستگاه های آبادان و اهواز در ماه ژولای و به ترتیب، برابر با 18 /232 و 16 /214 میلی متر اتفاق افتاد.
۲۲۱۷۹۳.

اثربخشی طرح واره درمانی هیجانی بر اجتناب شناختی-رفتاری و شدت نشانه های اختلال اضطراب فراگیر در دانشجویان دختر مبتلا به اضطراب فراگیر(مقاله علمی وزارت علوم)

حوزه‌های تخصصی:
تعداد بازدید : ۱۶۴۶ تعداد دانلود : ۱۱۵۸
هدف پژوهش حاضر، بررسی تأثیر طرح واره درمانی هیجانی بر اجتناب شناختی رفتاری و شدت نشانه های اختلال اضطراب فراگیر در دانشجویان دختر مبتلا به اختلال اضطراب فراگیر دانشگاه لرستان بود. این پژوهش از نوع نیمه آزمایشی بوده و از طرح پیش آزمون- پس آزمون با گروه کنترل استفاده شد. جامعه آماری این پژوهش شامل کلیه دانشجویان دختر مبتلا به اختلال اضطراب فراگیر دانشگاه لرستان در سال تحصیلی 95-1394 بود؛ که به منظور اجرای پژوهش غربالگری انجام گرفت ابتدا دانشجویان دختر، پرسشنامه نگرانی پنسیلوانیا را تکمیل نمودند سپس از بین آن هایی که نمره بالاتر از 47 را در این پرسشنامه کسب کرده مصاحبه بالینی ساختاریافته براساس DSM – IV –TR (SCID) به عمل آمد که 30 دانشجو تشخیص اختلال اضطراب فراگیر را دریافت کردند. سپس 20 دانشجو که معیار های ورود به پژوهش را داشتند به صورت تصادفی انتخاب و به صورت تصادفی در دو گروه 10 نفره آزمایش و کنترل جایگزین شدند. آزمودنی های دو گروه، به پرسشنامه اجتناب شناختی- رفتاری (CBAS) و پرسشنامه اختلال اضطراب فراگیر(GAD-7) پاسخ دادند. سپس شرکت کنندگان گروه آزمایشی در 9 جلسه یک و نیم ساعته درمان گروهی مبتنی بر طرح واره درمانی هیجانی شرکت کردند. نتایج تحلیل کوواریانس داده ها نشان داد که طرح واره درمانی هیجانی به طور معناداری موجب کاهش اجتناب شناختی رفتاری و شدت نشانه های اختلال اضطراب فراگیر شرکت کنندگان گروه آزمایش در مرحله پس آزمون شد. به طورکلی نتایج پژوهش نشان می دهد که طرح واره درمانی هیجانی در کاهش اجتناب شناختی رفتاری و شدت نشانه های اختلال اضطراب فراگیر مؤثر است.
۲۲۱۷۹۴.

یادگیری در پارادایم پیچیدگی: ماهیت، قلمرو و فرایند(مقاله علمی وزارت علوم)

حوزه‌های تخصصی:
تعداد بازدید : ۲۲۶۷ تعداد دانلود : ۲۰۴۹
هدف اصلی این مقاله تبیین ماهیت، قلمرو و فرایند یادگیری بر اساس پارادایم پیچیدگی می باشد. بدین منظور، نخست نظریه های سنتی یادگیری با نظر به مبانی فلسفی آن ها مرور شده و نحوه شکل گیری نظریه ارتباط گرایی در پارادایم پیچیدگی بررسی شد. سپس، ماهیت، قلمرو و فرایند یادگیری بر اساس پارادایم پیچیدگی تبیین شد. در تبیین ماهیت یادگیری در این پارادایم، سه ویژگی یادگیری پیچیده شامل «مقارنه دانش و داننده»، «کلاس و فراسیستم ها همچون سیستم های یادگیرنده» و «وابستگی متقابل تدریس و یادگیری» تبیین شدند. سپس، قلمرو یادگیری بر بستر پارادایم پیچیدگی تبیین شد. دراین باره، استدلال شد که یادگیرندگان علاوه بر افراد فراگیرنده می تواند شامل گروه های اجتماعی و کلاسی، مدارس، اجتماع ها، بدنه های دانش، زبان ها، فرهنگ ها، گونه ها و غیره نیز باشند. ازاین رو، سخن گفتن از «سازمان یادگیرنده» در چنین زمینه ای معنای شفاف تری می یابد. همچنین، درباره فرایند یادگیری استدلال شد که یادگیری فرایندی «نوپدید» بوده و شامل «تکامل همگام» افراد، گروه های اجتماعی و جامعه گسترده تر است. به عبارت دیگر، در فرایند یادگیری تأکید بر روابط میان عناصر به جای خود عناصر است و ذهن انسان به عنوان یک سیستم انطباقی مورد ملاحظه قرار می گیرد.
۲۲۱۷۹۵.

مقایسه اثربخشی دو درمان گروهی شناختی- رفتاری و معنا درمانی گروهی بر کاهش افسردگی و افزایش امید به زندگی در سندرم آشیانه خالی(مقاله علمی وزارت علوم)

حوزه‌های تخصصی:
تعداد بازدید : ۱۳۶۶ تعداد دانلود : ۱۷۶۹
ه دف از پژوهش حاضر مقایسه اث ربخ شی دو درمان گروه ی شن اخت ی رفت اری و معنا درمانی به شیوه ی گروهی ب ر کاه ش افس ردگی و اف زای ش امی دواری در سندرم آشیانه خالی شه رستان  قروه است. جامعه آماری را کلیه مردان و زنان شهرستان قروه که فرزندانشان آنها را ترک نموده اند و از آنها جدا شده اند را شامل می شود. حج م نم ون ه 36 ن ف ر با استف اده از روش نمونه گیری در دسترس انتخ اب ش د. سپس افراد بطور تصادفی در سه گروه (دو گروه آزمایش و یک گروه کنترل) تقسیم شدند، یک گروه آزمایش 10 جلسه معنا درمانی به شیوه ی گروهی را دریافت کردند، گروه دوم آزمایش 13جلسه روان درمانی رفتاری شناختی را دریافت کردند اما گروه کنترل مداخله ای را دریافت نکردند. سپس به منظور جمع آوری داده ها از پرسشن امه افس ردگی بک BDI- IIو پرسشن امه امی د به زندگی اشن ایدر و همکاران استف اده ش د. این پ ژوه ش نیمه آزمای شی از نوع پی ش آزمون پس آزمون با گروه کنترل است.  جهت تحلیل داده ها از آمار توصی فی و آمار استنب اطی(آزمون تحلیل کوواریانس) استف اده ش د. یافته های به دست آمده نشان داد که درمان شناختی – رفتاری در کاهش افسردگی موثرتر است، و معنا درمانی در افزایش امید به زندگی تاثیر بیشتری دارد. نتیجه گیری می شودکه هر دو درمان شناختی- رفتاری و معنادرمانی در کاهش افسردگی و افزایش امید به زندگی در سندرم آشیانه خالی موثر هستند.
۲۲۱۷۹۶.

ارزیابی یادگیری الکترونیکی در دانشگاه پیام نور و مقایسه تطبیقی آن با دیگر دانشگاه های منتخب از دور جهان و ایران(مقاله علمی وزارت علوم)

حوزه‌های تخصصی:
تعداد بازدید : ۲۱۲۸ تعداد دانلود : ۸۶۲
این پژوهش با هدف ارزیابی یادگیری الکترونیکی در دانشگاه پیام نور و مقایسه تطبیقی آن با دیگر دانشگاه های منتخب از دور ایران و جهان انجام شده است. این تحقیق یک مطالعه اسنادی است که به روش تطبیقی - تحلیلی در سال 2016 میلادی با استفاده از سایت چهار دانشگاه باز و از دور (دانشگاه باز انگلستان، دانشگاه باز هلند، دانشگاه باز کاتالونیا اسپانیا و دانشگاه باز هلنیک یونان) در کشورهای پیشرو و منتخب در زمینه یادگیری الکترونیکی و سه دانشگاه مطرح در کشور (دانشکده مجازی علوم پزشکی تهران، دانشکده مجازی، قطب علمی آموزش الکترونیکی دانشگاه علوم پزشکی شیراز و مجازی علوم و حدیث) و انجام مصاحبه ساختاریافته و بهره برداری از تعداد شصت منبع و کلید واژه های یادگیری الکترونیکی، ارزشیابی کمی، بررسی تطبیقی و دانشگاه پیام نور انجام شده است. نتایج نشان داد که دانشگاه پیام نور با دانشگاه های مورد مطالعه در ایران و کشورهای منتخب جهان درخصوص تاریخچه، تعداد دانشجویان، تعداد رشته ها، خط مشی ها و استانداردها، واحد متولی و مجری، نوع ارزیابی، نحوه ارائه تکالیف، نرخ ترک تحصیل، دوره های آزاد، تک درس و کوتاه مدت، نوع و شیوه آموزش الکترونیکی به کار رفته تفاوت های واضحی دارد. به نظر می رسد که بین دانشگاه های منتخب جهان و منتخب داخلی مهم ترین مورد، ضرورت به کارگیری رویکرد ترکیبی در تکنیک ها و روش های آموزشی است که لازم است در دانشگاه پیام نور مورد توجه قرار گیرد.
۲۲۱۷۹۷.

نقش تعدیلگری گرایش های مذهبی در مدل وفاداری مشتری(مقاله علمی وزارت علوم)

حوزه‌های تخصصی:
تعداد بازدید : ۱۲۸۵ تعداد دانلود : ۹۶۷
متغیرهای گوناگونی مانند کیفیت، اعتماد، اعتبار و ریسک درک شده بر وفاداری مشتریان مؤثر است. به نظر می رسد که گرایش های مذهبی مشتریان در تأثیرگذاری این متغیرها بر وفاداری آنان مؤثر باشد. هدف از این تحقیق، بررسی نقش گرایش های مذهبی در زمینة برند و وفاداری مشتریان در ایران است. جامعة آماری در این تحقیق کلیة مصرف کنندگان انواع نوشابه در سطح شهر تهران را در برمی گیرد. ازاین رو، نمونه ای به تعداد 248 نفر از مصرف کنندگان نوشابه به صورت خوشه ای انتخاب شده است. مدل های اندازه گیری متغیرهای تحقیق با روش تحلیل عاملی اکتشافی و تأییدی بررسی و آزمون شده و مدل ساختاری تحقیق نیز با استفاده از رویکرد معادلات ساختاری طراحی شده است. روش تحقیق حاضر، توصیفی و از نوع همبستگی (با رویکرد مدل معادلات ساختاری) است. یافته های تحقیق نشان می دهد که کیفیت  درک شده و قابلیت اعتماد تأثیر مثبت و معنی دار بر اعتبار برند، ریسک درک شده، کیفیت درک شده و اعتبار برند تأثیر مثبت و معنی داری بر وفاداری مشتریان دارند. همچنین ثابت شد که متغیر گرایش های مذهبی هرچند یک متغیر تعدیلگر در مدل وفاداری مشتری تأیید نشده است و تأثیر معنی داری در رابطة بین ریسک درک شده، کیفیت درک شده و اعتبار برند با وفاداری مشتریان ندارد، اما این متغیر یک تعدیلگر مؤثر در رابطة بین قابلیت اعتماد و اعتبار برند عمل می کند.
۲۲۱۷۹۸.

تأثیر بحران مالی جهانی بر اهرم مالی شرکت های پذیرفته شده در بورس اوراق بهادار تهران

حوزه‌های تخصصی:
  1. حوزه‌های تخصصی مدیریت مدیریت دولتی مباحث ویژه مدیریت دولتی جهانی سازی
  2. حوزه‌های تخصصی مدیریت مدیریت مالی – حسابداری تئوریهای حسابداری تحقیقات بازار سرمایه
تعداد بازدید : ۱۱۴۰ تعداد دانلود : ۸۷۶
اقتصاد جهان هر از چند گاهی با بحران مواجه می شود. در سال های اخیر، بحران مالی سراسری˓ اقتصاد جهان را تحت تأثیر قرار داده و تمامی کشورها را، مستقیم و غیر مستقیم، درگیر کرده است. هدف این پژوهش، مطالعه تأثیر بحران مالی جهانی بر اهرم مالی شرکت های پذیرفته شده در بورس اوراق بهادار تهران است. برای آزمون این اثرات، تعداد 87 شرکت پذیرفته شده در بورس اوراق بهادار تهران، در طی دوره زمانی 1385 الی 1390، مورد مطالعه قرار گرفتند. در این پژوهش، از متغیرهای سود قبل از بهره و مالیات، هزینه استهلاک، دارایی ها، مخارج تحقیق و توسعه و متغیر دامی بحران مالی جهانی به عنوان متغیرهای مستقل و از متغیرهای نسبت دفتری بدهی و نسبت بازار بدهی، به عنوان متغیرهای وابسته (اهرم های مالی) استفاده شده است. نتایج پژوهش حاکی از تأثیر معنادار بحران مالی جهانی بر نسبت بازار بدهی شرکت های پذیرفته شده در بورس اوراق بهادر تهران می باشد. اما معناداری این رابطه، برای نسبت دفتری بدهی، مورد تأیید قرار نگرفت.
۲۲۱۷۹۹.

هوش معنوی؛ مولفه ها و مبانی آن در حکمت متعالیه(مقاله علمی وزارت علوم)

حوزه‌های تخصصی:
  1. حوزه‌های تخصصی علوم اسلامی منطق، فلسفه و کلام اسلامی فلسفه اسلامی کلیات مکتب های فلسفی حکمت متعالیه
  2. حوزه‌های تخصصی علوم اسلامی منطق، فلسفه و کلام اسلامی فلسفه اسلامی معرفت شناسی
تعداد بازدید : ۱۷۰۳ تعداد دانلود : ۱۲۴۳
هوش معنوی در سال های اخیر از جمله سازه های مورد توجه در روان شناسی محسوب می شود. از دست دادن امید به زندگی و احساس یاس و ناکامی در انسان های عصر تکنولوژی، روان شناسان را به شناسایی سازه ای راهگشا برای انسان واداشت که به هوش معنوی یا وجودی معروف است که بالاترین سطح هوشی و قوی ترین نوع سازگاری فرد با محیط محسوب می شود. از طرفی معنویت یکی از ارکان مهم فلسفه صدرا محسوب می شود و گرچه اصطلاح هوش معنوی در حکمت متعالیه به کار نرفته است، اما می توان این سازه مهم، ویژگی ها و مولفه ها، مبانی و ساختار اصلی و موانع رشد آن را از دیدگاه ملاصدرا استخراج کرد. این بررسی نشان می دهد که با توجه به دستگاه فکری ملاصدرا، سازه هوش معنوی در قالبی واقعی تر و موثرتر قابل تعبیه است، به صورتی که نه تنها هر انسانی با تقویت این هوش به معیارهای مورد توجه روان شاسان برای یک انسان سالم نزدیک می شود، بلکه انسان را به حقیقت خود یعنی تبدیل شدن به انسان کامل کمک می کند.
۲۲۱۸۰۰.

عوامل مؤثر بر تقاضای گردشگری کشورهای حوزه دریای خزر(مقاله علمی وزارت علوم)

حوزه‌های تخصصی:
تعداد بازدید : ۱۱۹۷ تعداد دانلود : ۱۰۰۱
گردشگری بین المللی طی دو دهه ی گذشته به سرعت توسعه یافته و از نظر اقتصادی اهمیت قابل توجهی پیدا کرده است. در این چارچوب، تحقیق حاضر به بررسی و شناسایی عوامل مؤثر بر تقاضای گردشگری، درکشورهای منتخب حوزه دریای خزر[1] پرداخته است. برای این منظور از روش داده های تابلویی [2]طی دوره ی زمانی 2013-2000 استفاده شده است. نتایج بدست آمده در این مطالعه، نشان می دهد که درآمد سرانه، نرخ واقعی ارز و آزادسازی تجاری اثر مثبت بر گردشگری دارد. همچنین، با توجه به نتایج دیگر تحقیق حاضر، بی ثباتی اقتصادی اثر منفی و معنادار بر تقاضای گردشگری دارند. با توجه به اینکه پتانسیل های قابل ملاحظه در منطقه برای توسعه گردشگری، توصیه می شود ضمن سیاست گذاری در ارتقای گردشگری، توجه ویژه ای به عوامل موثر بر تقاضای گردشگری حوزه دریای خزر صورت گیرد.

تبلیغات

پالایش نتایج جستجو

تعداد نتایج در یک صفحه:

درجه علمی

مجله

سال

حوزه تخصصی

زبان